سنن نسائي
كتاب الجنائز— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : السُّرْعَةِ بِالْجَنَازَةِ باب: جنازے کو جلد دفنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1914
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُشَيْمٌ , عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قال : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَنَكَادُ نَرْمُلُ بِهَا رَمَلًا " , وَاللَّفْظُ حَدِيثُ هُشَيْمٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے ( صحابہ کرام ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھا ہم جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلتے ۔ یہ الفاظ ہشیم کی روایت کے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´جنازے کو جلد دفنانے کا بیان۔`
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (صحابہ کرام) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھا ہم جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلتے۔ یہ الفاظ ہشیم کی روایت کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1914]
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (صحابہ کرام) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھا ہم جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلتے۔ یہ الفاظ ہشیم کی روایت کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1914]
1914۔ اردو حاشیہ: معلوم ہوا میت کو اٹھا کر تیز چلنا چاہیے جس طرح بوجھ اٹھانے والا طبعاً تیز چلتا ہے، یہاں بھاگنا مقصود نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1914 سے ماخوذ ہے۔