مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1897
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قال : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي عَرُوبَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کپڑوں میں سے سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ پاکیزہ اور عمدہ ہوتا ہے ، نیز اپنے مردوں کو ( بھی ) اسی میں کفنایا کرو “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1897
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2810 | سنن ابن ماجه: 3567 | سنن نسائي: 5324 | سنن نسائي: 5325

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´کون سا کفن بہترین ہے؟`
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کپڑوں میں سے سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ پاکیزہ اور عمدہ ہوتا ہے، نیز اپنے مردوں کو (بھی) اسی میں کفنایا کرو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1897]
1897۔ اردو حاشیہ: ➊ سفید کپڑے میں معمولی سا میل کچیل اور گندگی بھی ظاہر ہوتی ہے، لہٰذا اسے جلدی صاف کیا جاتا ہے اور وہ صاف ستھرا رہتا ہے، رنگ دار کپڑوں میں میل کچیل محسوس نہیں ہوتا، وہ دیر تک دھوئے نہیں جاتے، اس لیے بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ ویسے بھی سفید کپڑے کی ایک شان ہوتی ہے۔
➋ مجبوری نہ ہو تو کفن سفید ہی ہونا چاہیے۔
➌ کفن پہنانا واجب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1897 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2810 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سفید کپڑے پہننے کا بیان۔`
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید کپڑے پہنو، کیونکہ یہ پاکیزہ اور عمدہ لباس ہیں، اور انہیں سفید کپڑوں کا اپنے مردوں کو کفن دو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2810]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زندگی میں سفید لباس بہتر، پاکیزہ اور عمدہ ہے، اس لیے کہ سفید کپڑے میں ملبوس شخص کبر وغرور اور نخوت سے خالی ہوتا ہے، جب کہ دوسرے رنگوں والے لباس میں متکبرین یا عورتوں سے مشابہت کا امکان ہے، اپنے مُردوں کو بھی انہی سفید کپڑوں میں دفنانا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2810 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3567 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´سفید کپڑوں کا بیان۔`
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید کپڑے پہنو کہ یہ زیادہ پاکیزہ اور عمدہ لباس ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3567]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سفید رنگ افضل ہے اس لئے اہم مواقع پر سفید کپڑے پہننا بہتر ہے۔

(2)
سفید لباس خوبصورت بھی ہوتا ہے اور با وقار بھی۔
اس میں میل کچیل کا جلدی پتہ چل جاتا ہے اس لیے اس کو جلدی دھو لیا جاتا ہے اور زیادہ توجہ سے دھویا جاتا ہے جس کی بنا پر ہو زیادہ پاک صاف رہتا ہے۔

(3)
کفن کے لئے سفید کپڑا بہتر ہے ویسے دوسرا کپڑا بھی درست ہے خصوصاً دھاری دار کپڑا۔ (سنن أبي داؤد، الجنائز، باب فى الكفن، حديث: 3150)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3567 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5324 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سفید کپڑا پہننے کے حکم کا بیان۔`
سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید کپڑے پہنا کرو، اس لیے کہ یہ زیادہ پاکیزہ اور عمدہ ہوتے ہیں اور اپنے مردوں کو سفید کفن دیا کرو۔‏‏‏‏ (عمرو بن علی کہتے ہیں کہ) یحییٰ نے کہا: میں نے اس روایت کو نہیں لکھا، میں نے کہا: کیوں؟ کہا: میمون بن ابی شبیب کی وہ روایت جو سمرہ رضی اللہ عنہ سے ہے وہی میرے لیے کافی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5324]
اردو حاشہ: (1) امر یہاں استحباب کے معنیٰ ہے یعنی سفید کپڑے ہی پہننا ضروری نہیں بلکہ دوسرے مباح رنگوں کے کپڑے بھی جائز ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے دوسرے رنگوں کے کپڑے بھی استعمال کیے اور صحابہ بھی کرتے تھے، یہی حکم کفن کا ہے۔
(2) پاکیزہ او ر صاف ستھرے کیونکہ سفید رنگ میں داغ دھبہ بہت جلد نظر آجاتا ہے۔ اسے جتنا زیادہ دھویا جائے گا اتنا ہی پاکیزہ اور صاف ستھرا رہے گا جب کہ بعض رنگوں میل کچیل نظر نہیں آتا خواہ عرصہ دراز تک ایسے کپڑے نہ دھوئے جائیں۔ حقیقتاً وہ گندے اور بسا اوقات پلید بھی رہتے ہیں۔
(3) فوت شدگان کیونکہ ان کےلیے سادگی اورصفائی دونوں مناسب ہیں۔ اور سفید کپڑے میں یہ دونوں وصف بدرجہ اتم پاتے جاتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5324 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔