مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1896
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الرَّقِّيُّ الْقَطَّانُ ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، قال : أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قال : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ مَاتَ فَقُبِرَ لَيْلًا وَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ , فَزَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ إِنْسَانٌ لَيْلًا إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ إِلَى ذَلِكَ , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَلِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحَسِّنْ كَفْنَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو آپ نے اپنے صحابہ میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جو مر گیا تھا ، اور اسے رات ہی میں دفنا دیا گیا تھا ، اور ایک گھٹیا کفن میں اس کی تکفین کی گئی تھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرما دیا کہ کوئی آدمی رات میں دفنایا جائے سوائے اس کے کہ کوئی مجبوری ہو ، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی ( کے کفن دفن کا ) ولی ہو تو اسے چاہیئے کہ اسے اچھا کفن دے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1896
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 943 | سنن ابي داود: 3148 | بلوغ المرام: 440

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´کفن اچھا دینے کے حکم کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو آپ نے اپنے صحابہ میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جو مر گیا تھا، اور اسے رات ہی میں دفنا دیا گیا تھا، اور ایک گھٹیا کفن میں اس کی تکفین کی گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرما دیا کہ کوئی آدمی رات میں دفنایا جائے سوائے اس کے کہ کوئی مجبوری ہو، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی (کے کفن دفن کا) ولی ہو تو اسے چاہیئے کہ اسے اچھا کفن دے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1896]
1896۔ اردو حاشیہ: ➊ کفن اچھا ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ نیا کپڑا ہو، مستعمل نہ ہو، سفید ہو، رنگ دار نہ ہو (تاکہ پر ان ے نئے کا اندازہ ہو سکے)، صاف ستھرا ہو، میلا کچیلا نہ ہو۔ درمیانی قیمت کا ہو جو دیکھنے میں نامناسب معلوم نہ ہو اور عوام الناس اسے استعمال کرتے ہوں۔ سادہ ہو، منقش نہ ہو۔ یہ مطلب نہیں کہ قیمتی اور مہنگا ہو کیونکہ بعض روایات میں مہنگے کفن سے صراحتاً روکا گیا ہے۔
➋ مذکورہ حدیث سے اور اس موضوع کی دیگر تمام روایات جمع کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ رات کے وقت مردوں کو دفن کرنا جائز نہیں الا یہ کہ کوئی مجبوری اور اشد ضرورت پیش آ جائے۔ رات کے وقت تدفین کی ممانعت ممکن ہے اس گمان کی وجہ سے ہو کہ نماز جنازہ میں لوگ کم تعداد میں شریک ہں گے، نیز کفن دفن میں کوتاہی ہو گی۔ لیکن اگر نماز جنازہ پڑھ لی گئی ہو تو عذر کے پیش نظر رات کو بھی دفن کرنا پڑے تو جائز ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت میت کو قبر میں دفن کیا تھا۔ (جامع الترمذي، الجنائز، حدیث: 1057) نیز امام بخاری رحمہ اللہ نے تعلیقات بیان کیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رات کے وقت دفن کیا گیا۔ (صحیح البخاري، الجنائز، قبل الحدیث: 1340) مسند احمد میں حضر عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت دفن کیا گیا۔ (مسند أحمد: 110، 62/6) مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بابت مروی ہے کہ ان کو رات کے وقت دفن کیا گیا۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ: 31/3) مذکورہ روایات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مجبوری اور عذر کے پیش نظر رات کے وقت دفن کرنا جائز ہے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1896 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 943 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
ابوزبیر بتاتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ دیا اور اپنے ساتھیوں میں سے ایک آدمی کا تذکرہ فرمایا، جسے مرنے کے بعد حقیر سے چھوٹے کپڑے میں کفن دیا گیا، اور رات ہی کو دفن کردیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر سرزنش وتوبیخ فرمائی کہ کسی آدمی کو جنازہ پڑھے بغیر رات کو دفن کر دیا جائے، الا یہ کہ کوئی انسان ایسا کرنے پر مجبور ہو اور نبی اکرم... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2185]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
میت کی بھلائی اور بہتری کی خاطر اسے ایسے وقت میں دفن کیا جائے جس وقت اس کی نماز میں زیادہ لوگ شریک ہو کر اس کے لیے دعا کر سکیں۔
اور خصوصی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں، آپﷺ دن کے جنازوں میں شریک ہوتے تھے۔
اس لیے دن کے جنازہ میں زیادہ لوگ جمع ہو جاتے تھے لیکن اگر رات کے جنازہ میں زیادہ لوگ جمع ہو سکتے ہوں تو رات کو بھی جنازہ پڑھایا جا سکتا ہے۔
جیسا کہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بہت سے دوسرے بزرگوں کا جنازہ رات کو پڑھایا گیا ہے۔
لیکن کفن کی خست وحقارت کے سبب اور نماز جنازہ کی پرواہ کیے بغیر رات کے دفن کرنا درست نہیں ہے۔

کفن صاف ستھرے، سفید اور اچھے کپڑے سے تیار کرنا چاہیے جو میت کو پوری طرح ڈھانپتا ہو لیکن اچھے کا معنی قیمتی نہیں ہے کہ ریا وسمع کرتے ہوئے بیش قیمت کفن تیار کیا جائے بلکہ عام طور پر مرنے والا جو صاف ستھرااوراچھا لباس پہنتا تھا۔
اسی قسم کا کفن ہونا چاہیے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 943 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3148 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کفن کا بیان۔`
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے سنا کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا جس میں اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جن کا انتقال ہو گیا تھا، انہیں ناقص کفن دیا گیا، اور رات میں دفن کیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ڈانٹا کہ رات میں کسی کو جب تک اس پر نماز جنازہ نہ پڑھ لی جائے مت دفناؤ، إلا یہ کہ انسان کو انتہائی مجبوری ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ بھی) فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھا کفن دے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3148]
فوائد ومسائل:
اس سے مراد مہنگا اور قیمتی کفن نہیں۔
بلکہ سادہ صاف ستھرا اور مکمل کفن ہے۔
اس بیان میں یہ بھی ہے کہ کسی بھی مسلمان بھائی کو کفن دینا ایک مستحسن کام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3148 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 440 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´مرنے والوں کو اچھا کفن دینا چاہیے`
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اسے اچھا کفن دینا چاہیے . . . [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 440]
فوائد و مسائل: ➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔
➋ اچھا اور عمدہ کفن دینے کا مطلب یہ ہے کہ کفن کا کپڑا صاف ستھرا اور عمدہ ہونا چاہیے اور وہ اس قدر کہ میت کے جسم کو اچھی طرح ڈھانپ لے۔
➌ اچھے کفن سے مراد یہ نہیں کہ وہ قیمتی ہو، قیمتی کفن کی ممانعت آئندہ حدیث میں آ رہی ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 440 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔