سنن نسائي
كتاب الجنائز— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : الْكَافُورِ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ باب: میت کے غسل کے پانی میں کافور ملانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1893
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَقَالَتْ حَفْصَةُ , عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ " وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ` ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں کیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´میت کے غسل کے پانی میں کافور ملانے کا بیان۔`
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں کیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1893]
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں کیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1893]
1893۔ اردو حاشیہ: ایک ہی باب کے تحت اور ایک ہی حدیث کا تکرار بعض اسنادی باریکیاں ظاہر کرنے کے لیے ہے جیسا کہ کئی دفعہ پیچھے گزرا۔ ان باریکیوں کو سمجھنے کے لیے اسانید کا بغور مطالعہ ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1893 سے ماخوذ ہے۔