مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1872
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ يُعَزِّيهِ بِابْنٍ لَهُ هَلَكَ ، وَذَكَرَ فِي كِتَابِهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَرْضَى لِعَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ إِذَا ذَهَبَ بِصَفِيِّهِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ , وَقَالَ : مَا أُمِرَ بِهِ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمرو بن شعیب نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین کو ان کے بیٹے کی وفات پر تعزیت کا خط لکھا ، اور اپنے خط میں ذکر کیا کہ` انہوں نے اپنے والد کو بیان کرتے سنا وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے لیے جب وہ زمین والوں میں سے اس کی سب سے محبوب چیز یعنی بیٹا کو لے لے ، اور وہ اس پر صبر کرے ، اور اجر چاہے ، اور وہی کہے جس کا حکم دیا گیا ہے ، جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1872
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´صبر کرنے اور اجر و ثواب چاہنے والے کے ثواب کا بیان۔`
عمرو بن شعیب نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین کو ان کے بیٹے کی وفات پر تعزیت کا خط لکھا، اور اپنے خط میں ذکر کیا کہ انہوں نے اپنے والد کو بیان کرتے سنا وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے لیے جب وہ زمین والوں میں سے اس کی سب سے محبوب چیز یعنی بیٹا کو لے لے، اور وہ اس پر صبر کرے، اور اجر چاہے، اور وہی کہے جس کا حکم دیا گیا ہے، جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1872]
1872۔ اردو حاشیہ: ظاہر ہے اس سے گناہ معاف ہو جائیں گے کیونکہ جنت میں جانے سے پہلے گناہوں کی معافی ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1872 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔