مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1871
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِيَاسٍ وَهُوَ مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ : " أَتُحِبُّهُ ؟ " , فَقَالَ : أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ ، فَمَاتَ فَفَقَدَهُ فَسَأَلَ عَنْهُ ، فَقَالَ : " مَا يَسُرُّكَ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ عِنْدَهُ يَسْعَى يَفْتَحُ لَكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس کے ساتھ اس کا بیٹا ( بھی ) تھا ، آپ نے اس سے پوچھا : ” کیا تم اس سے محبت کرتے ہو ؟ “ تو اس نے جواب دیا : اللہ آپ سے ایسے ہی محبت کرے جیسے میں اس سے کرتا ہوں ، پھر وہ ( لڑکا ) مر گیا ، تو آپ نے ( کچھ دنوں سے ) اسے نہیں دیکھا تو اس کے بارے میں ( اس کے باپ سے ) پوچھا ( تو انہوں نے بتایا کہ وہ مر گیا ہے ) آپ نے فرمایا : ” کیا تمہیں اس بات سے خوشی نہیں ہو گی کہ تم جنت کے جس دروازے پر جاؤ گے ( اپنے بچے ) کو اس کے پاس پاؤ گے ، وہ تمہارے لیے دوڑ کر دروازہ کھولنے کی کوشش کرے گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1871
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´مصیبت آنے پر صبر کرنے اور اللہ سے ثواب چاہنے کے حکم کا بیان۔`
قرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کے ساتھ اس کا بیٹا (بھی) تھا، آپ نے اس سے پوچھا: کیا تم اس سے محبت کرتے ہو؟ تو اس نے جواب دیا: اللہ آپ سے ایسے ہی محبت کرے جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پھر وہ (لڑکا) مر گیا، تو آپ نے (کچھ دنوں سے) اسے نہیں دیکھا تو اس کے بارے میں (اس کے باپ سے) پوچھا (تو انہوں نے بتایا کہ وہ مر گیا ہے) آپ نے فرمایا: کیا تمہیں اس بات سے خوشی نہیں ہو گی کہ تم جنت کے جس دروازے پر جاؤ گے (اپنے بچے) کو اس کے پاس پاؤ گے، وہ تمہارے لیے دوڑ کر دروازہ کھولنے کی کوشش کرے گا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1871]
1871۔ اردو حاشیہ: معلوم ہوتا ہے وہ بچہ نابالغ تھا۔ ایک دوسری حدیث کے مطابق نابالغ بچے پر صبر کا ثواب دخول جنت ہے کیونکہ نابالغ بچے سے پیار زیادہ ہوتا ہے، اس کی وفات کا صدمہ بھی زیادہ ہوتا ہے، نیز وہ معصوم اور بے گناہ ہونے کی وجہ سے اللہ کی رحمت کا زیادہ حق دار ہوتا ہے، اس کی سفارش رد نہیں ہو گی لیکن یہ سب کچھ تب ہے جب صبر کیا ہو اور ثواب کی نیت کی ہو۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1871 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔