سنن نسائي
كتاب الجنائز— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : الأَمْرِ بِالاِحْتِسَابِ وَالصَّبْرِ عِنْدَ نُزُولِ الْمُصِيبَةِ باب: مصیبت آنے پر صبر کرنے اور اللہ سے ثواب چاہنے کے حکم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِيَاسٍ وَهُوَ مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ : " أَتُحِبُّهُ ؟ " , فَقَالَ : أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ ، فَمَاتَ فَفَقَدَهُ فَسَأَلَ عَنْهُ ، فَقَالَ : " مَا يَسُرُّكَ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ عِنْدَهُ يَسْعَى يَفْتَحُ لَكَ " .
´قرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس کے ساتھ اس کا بیٹا ( بھی ) تھا ، آپ نے اس سے پوچھا : ” کیا تم اس سے محبت کرتے ہو ؟ “ تو اس نے جواب دیا : اللہ آپ سے ایسے ہی محبت کرے جیسے میں اس سے کرتا ہوں ، پھر وہ ( لڑکا ) مر گیا ، تو آپ نے ( کچھ دنوں سے ) اسے نہیں دیکھا تو اس کے بارے میں ( اس کے باپ سے ) پوچھا ( تو انہوں نے بتایا کہ وہ مر گیا ہے ) آپ نے فرمایا : ” کیا تمہیں اس بات سے خوشی نہیں ہو گی کہ تم جنت کے جس دروازے پر جاؤ گے ( اپنے بچے ) کو اس کے پاس پاؤ گے ، وہ تمہارے لیے دوڑ کر دروازہ کھولنے کی کوشش کرے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
قرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کے ساتھ اس کا بیٹا (بھی) تھا، آپ نے اس سے پوچھا: ” کیا تم اس سے محبت کرتے ہو؟ “ تو اس نے جواب دیا: اللہ آپ سے ایسے ہی محبت کرے جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پھر وہ (لڑکا) مر گیا، تو آپ نے (کچھ دنوں سے) اسے نہیں دیکھا تو اس کے بارے میں (اس کے باپ سے) پوچھا (تو انہوں نے بتایا کہ وہ مر گیا ہے) آپ نے فرمایا: ” کیا تمہیں اس بات سے خوشی نہیں ہو گی کہ تم جنت کے جس دروازے پر جاؤ گے (اپنے بچے) کو اس کے پاس پاؤ گے، وہ تمہارے لیے دوڑ کر دروازہ کھولنے کی کوشش کرے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1871]