مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1853
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ حِينَ بَايَعَهُنَّ ، أَنْ لَا يَنُحْنَ ، فَقُلْنَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ نِسَاءً أَسْعَدْنَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَفَنُسْعِدُهُنَّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا إِسْعَادَ فِي الْإِسْلَامِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت عورتوں سے بیعت لی تو ان سے یہ بھی عہد لیا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی ، تو عورتوں نے کہا : اللہ کے رسول ! کچھ عورتوں نے زمانہ جاہلیت میں ( نوحہ کرنے میں ) ہماری مدد کی ہے ، تو کیا ہم ان کی مدد کریں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام میں ( نوحہ پر ) کوئی مدد نہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1853
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 1885 | سنن نسائي: 3338

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´میت پر نوحہ کرنے کا بیان۔`
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت عورتوں سے بیعت لی تو ان سے یہ بھی عہد لیا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی، تو عورتوں نے کہا: اللہ کے رسول! کچھ عورتوں نے زمانہ جاہلیت میں (نوحہ کرنے میں) ہماری مدد کی ہے، تو کیا ہم ان کی مدد کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں (نوحہ پر) کوئی مدد نہیں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1853]
1853۔ اردو حاشیہ: جاہلیت میں یہ تعاون عام تھا کہ غم کی بنا پر نہیں بلکہ اس بنا پر کی میت پر نوحہ کرنے جاتی تھیں کہ اس میت کی رشتے دار عورتوں نے ہماری ایک میت پر آکر نوحہ کیا تھا، حالانکہ یہ گناہ میں تعاون ے، لہٰذا اس میں بدل دینا بھی حرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1853 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1885 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نکاح شغار کی ممانعت۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں شغار نہیں ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1885]
اردو حاشہ:
فائدہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر مسلموں کا رواج ہے۔
مسلمانوں کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ غیر اسلامی رسم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1885 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3338 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نکاحِ شغار (یعنی بیٹی یا بہن کے مہر کے بدلے دوسرے کی بہن یا بیٹی سے شادی کرنے کی ممانعت) کا بیان۔`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں نہ «جلب» ہے، نہ «جنب» ہے، اور نہ «شغار» ہے۔‏‏‏‏ ابوعبدالرحمٰن نسائی فرماتے ہیں: اس روایت میں صریح غلطی موجود ہے اور بشر کی روایت صحیح ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3338]
اردو حاشہ: بشر کی روایت یوں ہے: حمید عن حسن عن عمران بن حصین اور صحیح ہے‘ جبکہ محمد بن کثیر نے حمید عن انس کہا ہے جو کہ غلط ہے۔ دراصل حمید بہت سی روایات حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں اور ان کے مسلمہ شاگرد ہیں‘ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ روایت حضرت انس ہی سے بیان کرتے ہیں۔ محمد بن کثیر کو یہی غلطی لگی کہ انہوں نے یہ روایت بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے خیال کی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3338 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔