حدیث نمبر: 1852
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ ، قَالَ : " لَا تَنُوحُوا عَلَيَّ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُنَحْ عَلَيْهِ " مُخْتَصَرٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قیس بن عاصم رضی الله عنہ نے کہا` تم میرے اوپر نوحہ مت کرنا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا ۔ یہ لمبی حدیث سے مختصر ہے ۔

وضاحت:
۱؎: میت پر اس کے اوصاف بیان کر کے چلا چلا کر رونے کو نوحہ کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1852
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11101) ، مسند احمد 5/61 (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´میت پر نوحہ کرنے کا بیان۔`
قیس بن عاصم رضی الله عنہ نے کہا تم میرے اوپر نوحہ مت کرنا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا۔ یہ لمبی حدیث سے مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1852]
1852۔ اردو حاشیہ: نوحے سے مراد ہے میت کے (جھوٹے یا سچے) اوصاف ذکر کر کے اونچی اونچی آواز سے رونا، یہ منع ے کیونکہ عام طور پر اس موقع پر مبالغہ آرائی کی جاتی ے۔ عرب معاشرے میں تو باقاعدہ پیشہ ور نوحہ کرنے والوں کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں جو اپنی طرف سے جوڑ جوڑ کر اوصاف ذکر کرتے حتی کہ وہ غم کے بجائے فخر و مباہات اور فصاحت وبلاغت کی مجلس بن جاتی۔ علاوہ ازیں آواز سے رونا بھی منع ے اور نوحہ بغیر آواز کے ہو ہی نہیں سکتا۔ میت کے مرثیے پڑھ پڑھ کر لوگوں کو لازنا بھی نوحے میں داخل اور حرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1852 سے ماخوذ ہے۔