سنن نسائي
كتاب الجنائز— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : تَسْجِيَةِ الْمَيِّتِ باب: میت کو ڈھانپنے کا بیان۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : جِيءَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ , فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سُجِّيَ بِثَوْبٍ ، فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْهُ فَنَهَانِي قَوْمِي ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُفِعَ فَلَمَّا رُفِعَ سَمِعَ صَوْتَ بَاكِيَةٍ , فَقَالَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ " , فَقَالُوا : هَذِهِ بِنْتُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو , قَالَ : " فَلَا تَبْكِي أَوْ فَلِمَ تَبْكِي ؟ مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ " .
´جابر بن عبداللہ بن حرام رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` غزوہ احد کے دن میرے والد کو اس حال میں لایا گیا کہ ان کا مثلہ کیا جا چکا تھا ، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا گیا ، اور ایک کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا تھا ، میں نے ان کے چہرہ سے کپڑا ہٹانا چاہا تو لوگوں نے مجھے روک دیا ، ( پھر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( اٹھانے ) کا حکم دیا ، انہیں اٹھایا گیا ، تو جب وہ اٹھائے گئے تو آپ نے کسی رونے والے کی آواز سنی تو پوچھا : ” یہ کون ہے ؟ “ تو لوگوں نے کہا : یہ عمرو کی بیٹی یا بہن ہے ، آپ نے فرمایا : ” مت روؤ “ ، یا فرمایا : ” کیوں روتی ہو ؟ جب تک انہیں اٹھایا نہیں گیا تھا فرشتے انہیں برابر سایہ کئے ہوئے تھے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر بن عبداللہ بن حرام رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن میرے والد کو اس حال میں لایا گیا کہ ان کا مثلہ کیا جا چکا تھا، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا گیا، اور ایک کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا تھا، میں نے ان کے چہرہ سے کپڑا ہٹانا چاہا تو لوگوں نے مجھے روک دیا، (پھر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (اٹھانے) کا حکم دیا، انہیں اٹھایا گیا، تو جب وہ اٹھائے گئے تو آپ نے کسی رونے والے کی آواز سنی تو پوچھا: ” یہ کون ہے؟ “ تو لوگوں نے کہا: یہ عمرو کی بیٹی یا بہن ہے، آپ نے فرمایا: ” مت روؤ “، یا فرمایا: ” کیوں روتی ہو؟ جب تک انہیں اٹھایا نہیں گیا تھا فرشتے انہیں برابر سایہ کئے ہوئے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1843]
➋ ’’سایہ کیے رکھا“ مطلب یہ ہے کہ اتنے شرف والی شہادت پر آہ و زاری مناسب نہیں، اگرچہ دل اور آنکھیں تو غم کرتے ہیں۔
➌ وفات کے بعد میت کو کپڑے سے ڈھانپ دینا چاہیے تاکہ اگر موت کی وجہ سے اس کے چہرے وغیرہ میں کوئی تغیر آیا ہو تو نظر نہ آئے۔ غسل و تکفین کے بعد جب اسے صاف ستھرا کر کے حتی الامکان خوب صورت بنا دیا جاتا ہے، اس وقت اسے لوگوں کے سامنے چہرہ دیکھنے کے لیے رکھ جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ انور میں کسی قسم کے تغیر کا امکان نہیں تھا، اس لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے غسل و تکفین سے پہلے بھی آپ کو دیکھا اور بوسہ دیا ……… رضی اللہ عنہ ………۔
1۔
امام بخاری ؓنے اس حدیث سے شہید کی عظمت ثابت کی ہے کہ فرشتے اسے اپنی معیت اور ہمراہی میں لے لیتے ہیں اور اس پر اپنے پروں کا سایہ کردیتے ہیں۔
دوسری روایت میں ہے۔
’’شہید کی میت اٹھانے تک فرشتوں نے اس پر سایہ کیے رکھا۔
‘‘ (صحیح البخاري، الجنائز، حدیث 1293)
2۔
’’چلانے والی عورت‘‘ ایک روایت میں صراحت ہے کہ یہ حضرت جابر ؓ کی پھوپھی فاطمہ تھیں۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1244)
3۔
واضح رہے کہ صدقہ بن فضل حضرت امام بخاری ؒکے استاد ہیں ان سے امام بخاری ؒنے پوچھا تھا۔
(1)
قبل ازیں ایک حدیث میں وضاحت تھی کہ رونے والی حضرت جابر ؓ کی پھوپھی فاطمہ تھیں۔
(حدیث: 1244)
لیکن امام حاکم نے اپنی کتاب الإكليل میں اس کا نام ہند بنت عمرو لکھا ہے۔
ممکن ہے کہ دونوں بہنیں وہاں موجود ہوں یا ایک ہی مراد ہو، مذکورہ نام اس کا لقب ہو یا اس کے دو نام ہوں۔
(فتح الباري: 208/3) (2)
رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر ؓ کے والد گرامی پر فرشتوں کے سایہ کرنے کا ذکر فرمایا کہ اس قدر عظیم منصب کے حصول پر تو خوش ہونا چاہیے نہ کہ اس پر رونے دھونے کی زحمت گوارا کی جائے۔
یہ رونے کا کیا موقع ہے! اس ارشاد مبارک میں اغماض کے ساتھ عدم رضا بھی موجود ہے۔
اغماض اور رضا میں فرق ضرور ملحوظ رکھنا چاہیے۔
بعض صورتوں میں اظہار ناپسندیدگی کر کے درگزر کی شرعی گنجائش ہوتی ہے، چنانچہ اس عنوان کے تحت امام بخاری ؒ نے اسی حقیقت کو بیان فرمایا ہے۔
میت پر رونے اور بین کرنے کا دروازہ کھولنا قطعا مقصود نہیں۔
والله أعلم۔
ایسی حالت میں صحابہ نے یہ مناسب جانا کہ جابر ؓ ان کو نہ دیکھیں تو بہتر ہوگا تاکہ ان کو مزید صدمہ نہ ہو۔
حدیث سے نکلا کہ مردے کو دیکھ سکتے ہیں۔
اسی لیے آنحضرت ﷺ نے جابر کو منع نہیں فرمایا۔
(1)
حضرت جابر ؓ کے والد گرامی جنگ اُحد میں شہید ہو گئے تھے اور مشرکین نے ان کے ناک اور کان وغیرہ کاٹ کر ان کا مثلہ کر دیا تھا۔
حضرت جابر ؓ کا ان کے چہرے سے بار بار پردہ اٹھا کر رونا اس بنا پر تھا۔
(2)
امام بخاری ؒ نے اس واقعے سے ثابت کیا ہے کہ میت کو کفن میں لپیٹ دینے کے بعد اسے دیکھا جا سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ محض رونا، جس میں نوحہ نہ ہو، ممنوع نہیں۔
(3)
رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق جنتی ہونے کا فیصلہ فرمایا، کیونکہ فرشتوں کا اپنے پروں سے سایہ کرنا جنتی ہونے کی علامت ہے۔
نبی ﷺ کے فیصلے کی بنیاد وحی تھی۔
اپنے ظن و تخمین سے کسی کے متعلق جنتی ہونے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
ابن جریج کی متابعت کو امام مسلم ؒ نے اپنی صحیح میں متصل سند سے بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 150/3)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شہید پر رونا نہیں چاہیے، اللہ تعالیٰ ٰ نے بہن اور بھائی میں فطری محبت رکھی ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ہم تک دین پہنچایا ہے۔