سنن نسائي
كتاب الجنائز— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : فِيمَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ باب: اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے محبت کرنے والے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ ، عَنْ أَبِي زُبَيْدٍ وَهُوَ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ , عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " قَالَ شُرَيْحٌ : فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ , فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، إِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَقَدْ هَلَكْنَا , قَالَتْ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " , وَلَكِنْ لَيْسَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا وَهُوَ يَكْرَهُ الْمَوْتَ , قَالَتْ : قَدْ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَيْسَ بِالَّذِي تَذْهَبُ إِلَيْهِ وَلَكِنْ إِذَا طَمَحَ الْبَصَرُ وَحَشْرَجَ الصَّدْرُ وَاقْشَعَرَّ الْجِلْدُ فَعِنْدَ ذَلِكَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ .
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہے گا ، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرے گا “ ۔ شریح کہتے ہیں : میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ، اور میں نے کہا : ام المؤمنین ! میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ذکر کرتے سنا ہے ، اگر ایسا ہے تو ہم ہلاک ہو گئے ، انہوں نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جو اللہ سے ملنا چاہے اللہ ( بھی ) اس سے ملنا چاہے گا ، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرے گا “ لیکن ہم میں سے کوئی ( بھی ) ایسا نہیں جو موت کو ناپسند نہ کرتا ہو ۔ تو انہوں نے کہا : بیشک یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں جو تم سمجھتے ہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نگاہ پتھرا جائے ، سینہ میں دم گھٹنے لگے ، اور رونگٹے کھڑے ہو جائیں ، اس وقت جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہے گا ، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرے گا ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا ناپسند کرے گا۔“ شریح کہتے ہیں: میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور میں نے کہا: ام المؤمنین! میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ذکر کرتے سنا ہے، اگر ایسا ہے تو ہم ہلاک ہو گئے، انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” جو اللہ سے ملنا چاہے اللہ (بھی) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا ناپسند کرے گا “ لیکن ہم میں سے کوئی (بھی) ایسا نہیں جو موت کو ناپسند نہ کرتا ہو۔ تو انہوں نے کہا: بیشک یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں جو تم سمجھتے ہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نگاہ پتھرا جائے، سینہ میں دم گھٹنے لگے، اور رونگٹے کھڑے ہو جائیں، اس وقت جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا ناپسند کرے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1835]
➋ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی محبت کا مطلب موت کی تمنا کرنا نہیں۔ موت کی تمنا کے بغیر بھی اللہ سے ملاقات کی محبت ممکن ہے۔ موت کی تمنا کا تعلق معمول کی زندگی سے ہے اور اللہ سے ملاقات کی محبت کا تعلق موت کے وقت سے ہے۔