حدیث نمبر: 1831
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَبَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي ، فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ، تو اس وقت آپ کا سر مبارک میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے بعد کبھی کسی کی موت کی سختی مجھے ناگوار نہیں لگتی ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ موت کی سختی برے ہونے کی دلیل نہیں بلکہ یہ ترقی درجات، اور گناہوں کی مغفرت کا سبب بھی ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1831
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المغازي 83 (4446)، (تحفة الأشراف: 17531)، مسند احمد 6/64، 77 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3100 | صحيح البخاري: 4446

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´موت کی شدت۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو اس وقت آپ کا سر مبارک میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے بعد کبھی کسی کی موت کی سختی مجھے ناگوار نہیں لگتی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1831]
1831۔ اردو حاشیہ: موت بذات خود سب سے زیادہ تکلیف دہ چیز ہے۔ اس کے مقابلے میں دیگر تکالیف ہیچ ہیں۔ مومن کی اس تکلیف کا بھی ثواب ملتا ہے اور اس سے گناہ معاف ہوتے ہیں، لہٰذا اس کے لیے موت کی سختی رحمت بن جاتی ہے جبکہ وہ کافر و منافق کے لیے عذاب ہے، لہٰذا موت کی سختی یا نرمی کسی کے ایمان و کفر یا نفاق و فسق کی نشانی نہیں، موت کی سختی یا تکلیف صرف متعلقہ شخص ہی جانتا ہے، دیکھنے والا صحیح اندازہ نہیں لگا سکتا۔ جب موت کا عمل (فرشتوں والا) شروع ہو جاتا ہے تو پھر اس شخص کو ہوش نہیں رہتاکہ وہ موت کی سختی بیان کر سکے۔ (استغفراللہ)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1831 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4446 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4446. حضرت عائشہ‬ ؓ ہ‬ی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کا سر مبارک وفات کے وقت میری ٹھوڑی اور سینے کے درمیان تھا۔ اور جب سے میں نے نبی ﷺ پر موت کی سختی دیکھی ہے، اس کے بعد موت کی سختی کو کسی کے لیے برا نہیں سمجھتی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4446]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ ﷺ پر موت بہت سخت واقع ہوئی چنانچہ حدیث میں ہے کہ آپ کے پاس ایک برتن میں پانی موجود تھا آپ بار بار اس میں ہاتھ ڈالتے اور پانی لے کر اسے بار بار اپنے منہ پر پھیرتے۔
"لااله الااللہ موت میں بڑی سختیاں ہیں۔
" نیز آپ ان الفاظ میں دعا کرتے۔
’’اے اللہ! موت کی سختیوں پر میری مدد فرما۔
‘‘ اور موت کی سختیاں برداشت کرنے پر آپ کو اللہ کی طرف سے کئی گنا اجر دیا جائے گا، چنانچہ حدیث میں ہے کہ انبیاء ؑ کے گروہ کے لیے سختیاں اور آزمائشیں بہت ہیں اس لیے ہمارے اجرو ثواب میں بھی کئی گنا اضافہ ہو گا۔
(فتح الباري: 176/8)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4446 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3100 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3100. حضرت عائشہ ؓ ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی وفات میرے گھر میں ہوئی اور میری باری کے دن ہوئی جبکہ آپ کا سر مبارک میری گردن اور میرے سینے کے درمیان تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آخری وقت میں میرے اور آپ کے تھوک مبارک کو جمع فرمادیا۔ وہ اس طرح کہ عبدالرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسواک لے کر حاضر ہوئے چونکہ نبی کریم ﷺ اس کے استعمال سے کمزور تھے تو میں نے مسواک کو پکڑا اور اسے چبایا پھر آپ کو مسواک کرائی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3100]
حدیث حاشیہ: وفات نبوی کے بعد کچھ لوگوں نے یہ وہم پھیلانا چاہا کہ رسو ل کریم ﷺ اپنی وفات کے وقت حضرت علی ؓ کو اپنا وصی قرار دے کر گئے ہیں۔
یہ بات حضرت عائشہ ؓ نے بھی سنی‘ اس پر آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے آخری ایام پورے طور پر میرے حجرے میں گزرے۔
ان ایام میں ایک لمحہ بھی میں نے آپ کو تنہا نہیں چھوڑا۔
وفات کے وقت حضور ﷺ اپنا سرمبارک میرے سینے پر رکھے ہوئے تھے۔
ان حالات میں میں نہیں سمجھ سکتی کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ کو کب اپنا وصی قرار دے دیا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3100 سے ماخوذ ہے۔