سنن نسائي
صفة الوضوء— ابواب: وضو کا طریقہ
بَابُ : تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ باب: آگ کی پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قال : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَحَدَّثَتْنِي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ " . وَحَدَّثَنَا مَعَ هَذَا الْحَدِيثِ ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ ، أَنَّهَا " قَرَّبَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
´سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ` میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احتلام سے نہیں ( بلکہ جماع سے ) صبح کرتے ، پھر روزہ رکھتے ، ( محمد بن یوسف کہتے ہیں : ) اور ہم سے سلیمان بن یسار نے اس حدیث کے ساتھ ( یہ بھی ) بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنا ہوا پہلو ( گوشت کا ٹکڑا ) پیش کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا ، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احتلام سے نہیں (بلکہ جماع سے) صبح کرتے، پھر روزہ رکھتے، (محمد بن یوسف کہتے ہیں:) اور ہم سے سلیمان بن یسار نے اس حدیث کے ساتھ (یہ بھی) بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنا ہوا پہلو (گوشت کا ٹکڑا) پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 183]
➋ «لم یمس ماء» ظاہر معنی بھی مراد ہو سکتا ہے۔ گویا کلی بھی نہیں کہ کیونکہ کلی فرض نہیں اور ممکن ہے کہ یہ کنایہ ہو وضو نہ کرنے سے، یہی بات واضح ہے۔