حدیث نمبر: 1820
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَعِيشَ يَزْدَادُ خَيْرًا وَهُوَ خَيْرٌ لَهُ , وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں کا کوئی ( بھی ) ہرگز موت کی آرزو و تمنا نہ کرے ( کیونکہ ) اگر وہ نیک ہے تو شاید زندہ رہے ( اور ) زیادہ نیکی کرے ، اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ، اور اگر گناہ گار ہے تو ہو سکتا ہے گنا ہوں سے توبہ کر لے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1820
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المرضی 19 (5673)، التمني 6 (7235)، (تحفة الأشراف: 12934) ، مسند احمد 2/309، 514، سنن الدارمی/الرقاق 45 (2800) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 7235 | صحيح مسلم: 2682 | سنن نسائي: 1819 | صحيفه همام بن منبه: 77

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´موت کی آرزو و تمنا۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں کا کوئی (بھی) ہرگز موت کی آرزو و تمنا نہ کرے (کیونکہ) اگر وہ نیک ہے تو شاید زندہ رہے (اور) زیادہ نیکی کرے، اور یہ اس کے لیے بہتر ہے، اور اگر گناہ گار ہے تو ہو سکتا ہے گنا ہوں سے توبہ کر لے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1820]
1820۔ اردو حاشیہ: موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ کسی کے مانگنے یا روکنے سے موت آگے پیچھے نہیں ہو سکتی تو پھر کیا فائدہ ایسی چیز مانگنے کا جو مانگنے سے مل نہیں سکتی بلکہ اس کا وقت مقرر ہے۔ اس کے بجائے وہ میسر زندگی کو نیکی کے اضافے اور توبہ و مغفرت کے لیے استعمال کرے کیونکہ یہ چیزیں اس کے اختیار میں ہیں۔ انسان اپنی اختیاری چیزوں کی فکر کرے، غیراختیاری چیزوں کواللہ تعالیٰ پر چھوڑ دے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1820 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7235 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7235. حضرت عبد الرحمٰن بن ازہرؓ کے غلام حضرت ابو عبید سعد بن عبید سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’ تم میں سے کوئی بھی موت کی تمنا نہ کرے۔ اگر وہ نیکو کار ہے تو ممکن ہے کہ اسے نیکیوں کی مزید توفیق مل جائے اور اگر بدکار ہے تو شاید اسے توبہ نصیب ہو جائے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:7235]
حدیث حاشیہ: بعض نسخوں میں یہاں اتنی عبارت اور زائد ہے قال ابو عبد اللہ ابو عبید اسمه سعد بن عبید مولیٰ عبد الرحمن بن أزھر یعنی امام بخاری نے کہا کہ ابو عبیدہ کا نام سعد بن عبید ہے وہ عبد الرحمن بن ازہر کا غلام تھا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7235 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7235 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7235. حضرت عبد الرحمٰن بن ازہرؓ کے غلام حضرت ابو عبید سعد بن عبید سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’ تم میں سے کوئی بھی موت کی تمنا نہ کرے۔ اگر وہ نیکو کار ہے تو ممکن ہے کہ اسے نیکیوں کی مزید توفیق مل جائے اور اگر بدکار ہے تو شاید اسے توبہ نصیب ہو جائے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:7235]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں نیکوکار انسان کے لیے بشارت اور خوشخبری ہے اور بدکار کے لیے تنبیہ ہے گویا اس کہا گیا ہے: اگر وہ نیکوکار ہے تو موت کی تمنا ترک کر دے بلکہ مزید نیکیاں کرے اور جو بدکار ہے وہ بھی موت کی آرزو نہ کرے بلکہ بُرائیوں سے بچنے کی کوشش کرے تاکہ اس کا خاتمہ خراب نہ ہو کیونکہ یہ بہت خطرناک معاملہ ہے، یعنی مومن اگر زندہ رہے گا تو اس سے نیکیوں میں اضافے کی توقع ہے اورگناہ گار بھی موت کی تمنا نہ کرے کہ اس سے توبہ کی اُمید ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ احسان عظیم موت کی تمنا سے کہیں بڑھ کر ہے۔
(فتح الباري: 273/13)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7235 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2682 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو بہت سی احادیث ہمام بن منبہ رحمۃ اللہ علیہ کو سنائی تھیں ان میں سے ایک یہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم میں سے کوئی اپنی موت کی تمنا نہ کرے اور نہ اس کی آمدسے پہلے اس کے لیے دعا کرے، کیونکہ جب تم میں سے کوئی مرجائے گا تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا اور بندہ مومن کی عمر تو اس کے لیے خیر ہی میں اضافہ کا وسیلہ ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6819]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اسلام مومن کے سامنے اس کی زندگی کا روشن پہلو ہی رکھتا ہے، تاریک پہلو سے بچاتا ہے، اس لیے عمر کے اضافہ سے حسنات و طاعات کے اضافہ کی امید دلائی، گناہوں میں گرفتار ہونے کا تذکرہ نہیں کیا، کیونکہ ایک مومن سے نیکیوں کی ہی امید کرنی چاہیے اور گناہوں سے توبہ و استغفار کی توقع کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2682 سے ماخوذ ہے۔