حدیث نمبر: 1800
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّائِفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : قَدِمْتُ الطَّائِفَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ بِالْمَوْتِ ، فَرَأَيْتُ مِنْهُ جَزَعًا , فَقُلْتُ : إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ , فَقَالَ : أَخْبَرَتْنِي أُخْتِي أُمُّ حَبِيبَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَلَّى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِالنَّهَارِ أَوْ بِاللَّيْلِ بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " , خَالَفَهُمْ أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´یعلیٰ بن امیہ کہتے ہیں کہ` میں طائف آیا ، تو عنبسہ بن ابی سفیان کے پاس گیا ، اور وہ مرنے کے قریب تھے ، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ گھبرائے ہوئے ہیں ، میں نے کہا : آپ تو اچھے آدمی ہیں ، اس پر انہوں نے کہا مجھے میری بہن ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے دن یا رات میں بارہ رکعتیں پڑھیں ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا “ ۔ ابویونس قشیری نے ان لوگوں کی جنہوں نے اسے عطا سے روایت کی ہے مخالفت کی ہے ، ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1800
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15865) (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´جو فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے اس کے ثواب کا بیان اور اس سلسلے میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر، اور عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
یعلیٰ بن امیہ کہتے ہیں کہ میں طائف آیا، تو عنبسہ بن ابی سفیان کے پاس گیا، اور وہ مرنے کے قریب تھے، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ گھبرائے ہوئے ہیں، میں نے کہا: آپ تو اچھے آدمی ہیں، اس پر انہوں نے کہا مجھے میری بہن ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دن یا رات میں بارہ رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔‏‏‏‏ ابویونس قشیری نے ان لوگوں کی جنہوں نے اسے عطا سے روایت کی ہے مخالفت کی ہے، (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1800]
1800۔ اردو حاشیہ: ➊ ابویونس قشیری حضرت عطاء کے شاگرد ہیں۔ انہوں نے حضرت عطاء بن ابی رباح کا استاد شہر بن حوشب ذکر کر کے حضرت عطاء کے دوسرے شاگردوں کی مخالفت کی ہے جن کی روایات ابھی گزری ہیں۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ ابویونس نے روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا۔ گویا روایت مرفوع کے بجائے موقوف ذکر کی جبکہ دوسرے شاگرد اسے مرفوع بیان کرتے ہیں۔
➋ یعنی و جنت میں داخل ہو گا ورنہ گھر کا کیا فائدہ؟ نیز امید ہے کہ اولیں طور پر داخل ہو گا ورنہ مطلق دخول تو محق ایمان کی بنا پر بھی ہے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1800 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1798 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جو فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے اس کے ثواب کا بیان اور اس سلسلے میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر، اور عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ جمعہ سے پہلے بارہ رکعتیں پڑھتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کو کیا معلوم ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے خبر دی گئی ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عنبسہ بن ابی سفیان سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس نے رات دن میں فرض کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1798]
1798۔ اردو حاشیہ: ان بارہ رکعات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد گزشتہ احادیث میں گزر چکی ہے۔ حضرت عطاء نے اسے عام سمجھا مگر یہ درست نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1798 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1801 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جو فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے اس کے ثواب کا بیان اور اس سلسلے میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر، اور عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہم کہتی ہیں کہ جس نے ایک دن میں بارہ رکعتیں ظہر سے پہلے پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1801]
1801۔ اردو حاشیہ: ’’ظہر سے پہلے یہ معنی اس حدیث کو دوسری حدیث کے مطابق کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1801 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1803 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جو فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے اس کے ثواب کا بیان اور اس سلسلے میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر، اور عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو اس کے بعد، دو عصر سے پہلے، دو مغرب کے بعد اور دو صبح سے پہلے۔‏‏‏‏ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: فلیح بن سلیمان زیادہ قوی نہیں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1803]
1803۔ اردو حاشیہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے، اس روایت میں عشاء کے بعد دو کی بجائے عصر سے پہلے دو کا ذکر راوی کی غلطی ہے اور وہ فلیح بن سلیمان ہے جو ضعیف ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے «لیس بالقوي» ’’وہ قوی نہیں کہا ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اسے متابعات میں قبول کیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1803 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1805 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اسماعیل بن ابی خالد پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔`
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دن اور رات میں بارہ رکعتیں پڑھیں، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1805]
1805۔ اردو حاشیہ: اسماعیل کے شاگرد یزید بن ہارون نے اس روایت کو مرفوع بیان کیا ہے جبکہ یعلی اور عبداللہ نے اسے موقوف بیان کیا ہے جیسا کہ آئنندہ تین روایات سے صاف ظاہر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1805 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 728 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
عمرو بن اوس بیان کرتے ہیں کہ مجھے عنبسہ بن ابی سفیان نے اپنی مرض الموت میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایک خوش کن حدیث سنائی، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے دن، رات میں بارہ رکعت ادا کیں، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔‘‘ ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں، جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان سنا ہے میں نے ان رکعات کو نہیں چھوڑا اور عنبسہ کہتے ہیں، جب سے میں نے ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یہ حدیث... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1694]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: (1)
دن رات میں پانچ فرض نمازیں اسلام کا رکن رکین اور لازمہ ایمان ہیں، جن کے بغیر ایمان کا قیام بقا ممکن نہیں، لیکن ان کے علاوہ ان ہی کے آگے اور پیچھے کچھ رکعات پڑھنے کی ترغیب و تعلیم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے، ان میں سے جن کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکیدی الفاظ فرمائے ہیں اور دوسروں کو ترغیب و تشویق دلانے کے ساتھ ساتھ آپﷺ نے عملاً ان کا خوب اہتمام فرمایا ہے تو ان کو سنن راتبہ یا سنن مؤکدہ کا نام دیا جاتا ہے اور اگر آپﷺ نے ان کی ترغیب نہیں دی یا زیادہ اہتمام نہیں کیا تو ان کو سنن غیرمؤکدہ یا نفل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
(2)
آئمہ اربعہ کا اس امر پر اتفاق ہے کہ دن رات میں بارہ رکعات یعنی دو رکعت فجر سے پہلے چار رکعات ظہر سے پہلے اور دو رکعت ظہر کے بعد دو رکعت مغرب کے بعد اور دو رکعت عشاء کے بعد سنن مؤکدہ ہیں اور ان کے سوا رکعات جن کا ذکر مختلف احادیث میں موجود ہے۔
وہ سنن غیر مؤکدہ اور نوافل ہیں جو انسان کے لیے اجرو ثواب کے حصول اور درجات و مراتب میں رفعت و بلندی کا باعث ہیں۔
(3)
فرضوں سے پہلے پڑھی جانے والی سنن مؤکدہ اور نوافل کا بظاہر مقصد یا حکمت و مصلحت یہ معلوم ہوتی ہے کہ فرض نماز جو اللہ تعالیٰ کے دربار عالیہ میں سرگوشی اور حضوری ہے اور مسجد میں اجتماعی طور پر ادا کی جاتی ہے اس میں مشغول ہونے سے پہلے انفرادی طور پر چند رکعات پڑھ کر دل کو دنیا کے مشاغل اور مصروفیات سے پھیر کر اللہ کے دربار سے کچھ آشنا اور مانوس کر لیا جائے تاکہ فرضوں کی ادائیگی میں پوری یکسوئی اور دلجمعی سے اللہ تعالیٰ سے راز ونیاز ہو سکے اور دل دنیا کے مشاغل میں ہی نہ الجھا رہے۔
(4)
فرضوں کے بعد پڑھے جانے والی سنن راتبہ یا نوافل کی بظاہر یہی حکمت اور مصلحت معلوم ہوتی ہے کہ فرض نماز کی ادائیگی میں جو کمی اور کوتاہی رہ گئی ہے اس کا کچھ ازالہ اور تدراک ہو جائے۔
(5)
ہمارے اسلاف کرام کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ جب ان کے سامنے کوئی تاکیدی یا ترغیبی فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم آتا تو حتی الوسع اس کی پابندی اور اہتمام کرتے تھے اس کے بارے میں کسی قسم کے تغافل یا تساہل اور سستی کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 728 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 728 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
فرض رکعتوں کے علاوہ بارہ رکعات نفل
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو مسلمان بندہ ہر روز نماز کی فرض رکعتوں کے علاوہ بارہ رکعات نفل (روزانہ) پڑھتا ہے تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ جنت میں ایک محل بنا دیتا ہے۔ [صحيح مسلم 1 / 251 ح 728]

فوائد:

اس حدیث پاک اور دیگر احادیث مبارکہ میں فرض نمازوں کے علاوہ بارہ رکعات نفل کی بڑی فضیلت آئی ہے: چار ظہر سے پہلے اور دو بعد، دومغرب کے بعد اور دو عشاء کے بعد اور دو صبح کی فرض نماز سے پہلے۔

بعض روایات میں ظہر کے بعد چار [سنن الترمذي: 427 وهو حديث صحيح]
اور عصر سے پہلے چار رکعات [ابوداود: 1271، وسنده حسن]
کی بھی فضیلت آئی ہے۔
یہ رکعتیں دو سلام سے پڑھنی چاہئیں۔ دیکھئے: [صحيح ابن حبان، الاحسان 4 / 77 ح 2444]

صحیح بخاری [1/ 128 ح 937] وغیرہ میں ظہر سے پہلے دو رکعتیں بھی ثابت ہیں۔

قیام اللیل للمروزی [ص 74] میں بلاسند ابومعمر عبداللہ بن سخبرہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ لوگ (نامعلوم اشخاص) مغرب کے بعد چار رکعات پڑھنے کو مستحب سمجھتے تھے۔

یہ روایت بلاسند ہونے کی وجہ سے ناقابل حجت ہے۔

مختصر قیام اللیل [ص 58] میں بغیر کسی سند کے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ لوگ (نامعلوم اشخاص) عشاء سے پہلے چار رکعات پڑھنے کو مستحب سمجھتے تھے۔

یہ روایت بھی بلاسند ہونے کی وجہ سے ناقابلِ حجت ہے۔

یہ تمام رکعتیں دو دو کر کے پڑھنی چاہئیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کی (نفل) نماز دو دو رکعت ہے۔ [صحيح ابن خزيمه 2/ 214 ح 1210، صحيح ابن حبان، موارد الظمآن ح 636وسنده حسن]

ایک سلام کے ساتھ (نفل) چار اکٹھی رکعتیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت نہیں ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رات اور دن کی نماز یعنی نفل نماز دو دو رکعتیں ہے۔ [السنن الكبريٰ للبيهقي 2/ 487 وسنده صحيح]

بعض آثار کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک سلام سے نوافل و سنن کی چار رکعتیں، اکٹھی پڑھنی جائز ہیں مگر افضل یہی ہے کہ دو دو کر کے پڑھی جائیں۔

مغرب کی اذان کے بعد فرض نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھنے کا جواز ثابت ہے۔

قولِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے۔ [صحيح البخاري 1/ 157ح 1183]

اور فعلِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی۔ [مختصر قيام الليل للمروزي: ص 64، وقال: هذا اسناد صحيح على شرط مسلم، صحيح ابن حبان، الاحسان: 1586، وسنده صحيح]

مغرب کی نماز کے بعدچھ رکعتیں (اوابین) پڑھنے والی روایت عمر بن ابی خثعم (سخت ضعیف راوی) کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔ دیکھئے: [سنن الترمذي ج 1 ص 98 ح 435]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ مغرب کی نماز پڑھی پھر آپ عشاء تک (نفل) نماز پڑھتے رہے۔ دیکھئے: [سنن الترمذي 3781 وقال: ’’حسن غريب وسنده حسن وصححه ابن خزيمه: 1194 و ابن حبان، الموارد: 229 والذهبي فى تلخيص المستدرك 3/ 381]

جمعہ کے خطبہ سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چار رکعتیں ثابت نہیں ہیں اور نہ کوئی خاص عدد، جتنی مقدر ہو پڑھیں۔ حالت خطبہ میں دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھ جائیں، جمعہ کے بعد چار بھی صحیح ہیں۔ [صحيح مسلم 1/ 288 ح 881] اور دو بھی [صحيح بخاري 1 / 128 ح 937] لیکن چار بہتر ہیں۔

. . . تفصیل کے لئے دیکھئے . . . حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب ہدیۃ المسلمین حدیث نمبر 23
درج بالا اقتباس ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 999 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1250 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نفل نماز کے ابواب اور سنت کی رکعات کا بیان۔`
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایک دن میں بارہ رکعتیں نفل پڑھے گا تو اس کے بدلے اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1250]
1250۔ اردو حاشیہ:
یہ بشارت فرائض سے پہلے اور بعد کی سنتوں سے متعلق ہے جنہیں سنن مؤکدہ یا سنن راتبہ کہا جاتا ہے۔ اس حدیث سے سنن مؤکدہ کی فضیلت واضح ہوتی ہے۔ ان بارہ رکعتوں کی تفصیل دیگر احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان فرمائی ہے: چار رکعت ظہر سے پہلے، دو رکعت اس کے بعد، دو رکعت مغرب کے بعد، دو کعت عشاء کے بعد اور دو کعت نماز فجر سے پہلے۔ دیکھیے: [جامع الترمذي، الصلاة، حديث: 415]
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ دیکھیے: [صحيح بخاري، التطوع، حديث: 1172، 1180، وصحيح مسلم، صلاة المسافرين، حديث: 729]
اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص دن میں فرائض کے علاوہ دس رکعت ہی ادا کر لیتا ہے اس کے لیے بھی جنت میں گھر بنا دیا جاتا ہے۔ تاہم علماء اس کی بابت فرماتے ہیں کہ اگر ظہر نماز سے قبل اتنا وقت ہو کہ چار رکعت پڑھی جا سکتی ہوں تو چار رکعت ہی پڑھنی چاہئیں اور بہتر ہے کہ یہ دو رکعت کر کے ‎پڑھی جائیں، اگرچہ ایک سلام سے بھی پڑھنا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1250 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1141 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´سنن موکدہ کی بارہ رکعتوں کا بیان۔`
ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رات اور دن میں بارہ رکعتیں (سنن موکدہ) پڑھیں ۱؎، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1141]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بارہ رکعت سے مراد ہی مؤکدہ سنتیں ہیں جن کی تفصیل گزشتہ حدیث میں بیان ہوئی ہے۔

(2)
جنت میں گھر تعمیر ہونا ان نمازوں کا اجر ہے۔
اگر دوسرے اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل ہو بھی جائے تب بھی اس عمل کے ثواب پر خاص طور پر ایک گھر ملے گا۔

(3)
اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ سنت نمازیں پابندی سے ادا کرنے والے کے گناہ معاف ہوجایئں گے۔
جس کی وجہ سے وہ اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کا اہل ہوجائے گا۔
لہٰذا محض سستی اور بے پروائی کی وجہ سے سنتیں چھوڑ دینا بری بات ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1141 سے ماخوذ ہے۔