سنن نسائي
صفة الوضوء— ابواب: وضو کا طریقہ
بَابُ : الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 180
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ حَرْبٍ ، قال : حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَخْنَسِ بْنِ شَرِيقٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتُهُ فَسَقَتْهُ سَوِيقًا ، ثُمَّ قَالَتْ لَهُ : تَوَضَّأْ يَا ابْنَ أُخْتِي ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسفیان بن سعید بن اخنس بن شریق نے خبر دی ہے کہ` وہ اپنی خالہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، تو انہوں نے مجھے ستو پلایا ، پھر کہا : بھانجے ! وضو کر لو ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 181 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کرنے کا بیان۔`
ابوسفیان بن سعید بن اخنس سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا (جب انہوں نے ستو پیا) بھانجے! وضو کر لو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ” آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 181]
ابوسفیان بن سعید بن اخنس سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا (جب انہوں نے ستو پیا) بھانجے! وضو کر لو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ” آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 181]
181۔ اردو حاشیہ: مندرجہ بالا احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کرنا چاہیے مگر اس حکم کو وجوب پر محمول کرنا مشکل ہے کیونکہ وضو تو کسی پلید چیز نکلنے سے ٹوٹتا ہے نہ کہ پاک چیز کھانے سے جیسا کہ حدیث نمبر 174 میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اشکال ظاہر فرمایا ہے، لہٰذا ان احادیث کو یا تو استحباب پر محمول کیا جائے گا یا یہ حکم منسوخ ہے جیسا کہ آئندہ باب کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شروع دور میں آپ نے یہ حکم دیا تھا بعد میں آپ نے خود ہی اس حکم پر عمل نہیں کیا۔ (دیکھیے: حدیث: 185) اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اس پر عمل چھوڑ دیا اور یہی جمہور فقہاء و محدثین کا مسلک ہے اور یہی راجح ہے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 181 سے ماخوذ ہے۔