حدیث نمبر: 1792
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ قَالَ : جُزْئِهِ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الصُّبْحِ إِلَى صَلَاةِ الظُّهْرِ فَكَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` جو کوئی رات کو اپنا وظیفہ پڑھے بغیر سو جائے ، پھر وہ صبح سے ظہر تک کے درمیان کسی بھی وقت اسے پڑھ لے ، تو گویا اس نے اسے رات ہی میں پڑھا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1792
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´جو شخص رات کو سو جائے اور اپنا وظیفہ نہ پڑھ سکے تو وہ کب اس کی قضاء کرے؟`
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جو کوئی رات کو اپنا وظیفہ پڑھے بغیر سو جائے، پھر وہ صبح سے ظہر تک کے درمیان کسی بھی وقت اسے پڑھ لے، تو گویا اس نے اسے رات ہی میں پڑھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1792]
1792۔ اردو حاشیہ: یعنی ثواب کے لحاظ سے۔ اور یہ الفہ تعالیٰ کرم نوازی ہے، نیز معلوم ہوا کہ رات کو نماز (نفل) پڑھنے کا ثواب دن کو پڑھنے سے بہت زیادہ ہے علاوہ معذور شخص کے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1792 سے ماخوذ ہے۔