سنن نسائي
كتاب قيام الليل وتطوع النهار— کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
بَابُ : الْمُحَافَظَةِ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ باب: فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں کی محافظت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1760
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فجر کی دونوں رکعتیں دنیا ومافیہا سے بہتر ہیں “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے مراد فجر کی دونوں سنتیں ہیں کیونکہ عام طور پر اس لفظ سے یہی مراد لیا جاتا ہے، اور یہ ممکن ہے کہ یہاں مراد فرض ہو کیونکہ لفظ اس کا بھی محتمل ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں کی محافظت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” فجر کی دونوں رکعتیں دنیا ومافیہا سے بہتر ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1760]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” فجر کی دونوں رکعتیں دنیا ومافیہا سے بہتر ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1760]
1760۔ اردو حاشیہ: دنیا فانی ہے اور آخرت کا ثواب باقی، لہٰذا ان کا کوئی مقابلہ ہی نہیں، یعنی فجر کی دو سنتوں کا ثواب اس بات سے بہتر ہے کہ اسے ساری دنیا دے دی جائے، لہٰذا انہیں سفر میں بھی نہ چھوڑا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1760 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 725 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’فجر کی دو رکعت (سنت) دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سے بہتر ہیں۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1688]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت میں فجر کی دو رکعت سنت کا اہتمام اور پابندی اس قدر اجرو ثواب کا باعث ہے کہ دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے۔
اس سب سے زیادہ قیمتی اور مفید ہے کیونکہ دنیاو مافیہا سب عارضی اور فانی ہیں اور آخرت کا اجرو ثواب باقی اور غیر فانی ہے۔
اس سب سے زیادہ قیمتی اور مفید ہے کیونکہ دنیاو مافیہا سب عارضی اور فانی ہیں اور آخرت کا اجرو ثواب باقی اور غیر فانی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 725 سے ماخوذ ہے۔