حدیث نمبر: 1737
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَإِذَا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ , قَالَ : " سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ وتر میں «‏سبح اسم ربك الأعلى» ، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد‏» پڑھتے ، اور جب نماز سے فارغ ہو جاتے تو تین بار «سبحان الملك القدوس» کہتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1737
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 1732 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´اس حدیث میں شعبہ سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کہتے ہیں کہ رسول اللہ وتر میں «‏سبح اسم ربك الأعلى» ، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد‏» پڑھتے، اور جب نماز سے فارغ ہو جاتے تو تین بار «سبحان الملك القدوس» کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1737]
1737۔ اردو حاشیہ: مالک بن مغول سے اس روایت کو بیان کرنے والے شعیب بن حرب اور یحییٰ بن آدم ہیں۔ یحییٰ بن آدم نے زبید اور ابن ابزیٰ کے درمیان ذرّ کا واسطہ ذکر کیا ہے جبکہ شعیب بن حرب نے یہ واسطہ ذکر نہیں کیا، نیز یحییٰ بن آدم نے اس روایت کو مرسل بیان کیا ہے، یعنی صحابی عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا جبکہ شعیب نے ان کا ذکر کیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1737 سے ماخوذ ہے۔