حدیث نمبر: 1733
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ ، قال : حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ , وَزُبَيْدٍ , عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , وَكَانَ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ : " سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثًا وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالثَّالِثَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد‏» پڑھتے تھے ، اور جب سلام پھیرتے تھے ، تو «سبحان الملك القدوس» تین بار کہتے ، اور تیسری بار اپنی آواز بلند کرتے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1733
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´اس حدیث میں شعبہ سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد‏» پڑھتے تھے، اور جب سلام پھیرتے تھے، تو «سبحان الملك القدوس» تین بار کہتے، اور تیسری بار اپنی آواز بلند کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1733]
1733۔ اردو حاشیہ: ویسے تو تینوں دفعہ اونچی آواز سے پڑھتے تھے تبھی تو صحابہ کو پتا چلتا تھا کہ تین دفعہ پڑھا ہے مگر تیسری دفعہ اپنی صدائے حیات بخش کو مزید اونچا اور لمبا فرما دیتے تھے۔ (دیکھیے حدیث نمبر: 1700، 1751)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1733 سے ماخوذ ہے۔