حدیث نمبر: 173
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قال : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ ، قال : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ ، قال : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : أَكَلْتُ أَثْوَارَ أَقِطٍ فَتَوَضَّأْتُ مِنْهَا ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُ بِالْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کہتے ہیں کہ` میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد کی چھت پر وضو کرتے دیکھا ، تو انہوں نے کہا : میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھائے ہیں ، اسی وجہ سے میں نے وضو کیا ہے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کا حکم دیتے سنا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / صفة الوضوء / حدیث: 173
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 171 (تحفة الأشراف: 13553) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 171 | سنن نسائي: 172 | سنن نسائي: 174 | سنن نسائي: 175 | صحيح مسلم: 352 | سنن ترمذي: 79 | سنن ابن ماجه: 485

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 352 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو مسجد میں وضو کرتے ہوئے پایا تو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا، میں تو پنیر کے ٹکڑے کھانے سے وضو کر رہا ہوں کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپﷺ فرما رہے تھے، ’’آگ پر پکی چیز سے وضو کرو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:788]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
أَثْوَار: ثَوْرٌ کی جمع، ٹکڑے۔
(2)
أَقِطٍ: پنیر۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 352 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 485 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´آگ میں پکی ہوئی چیزوں کے استعمال سے وضو کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے استعمال سے وضو کرو ، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا ہم گرم پانی استعمال کرنے سے بھی وضو کریں؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھتیجے! جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنو تو اس پر باتیں مت بناؤ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 485]
اردو حاشہ: (1)
جس چیز میں آگ تبدیلی کردے اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جسے آگ پر پکا کر یا بھون کر تیار کیا گیا ہو۔

(2)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا موقف تھا کہ یہ حکم وجوبی نہیں ہے کیونکہ انھوں نے خود رسول اللہ ﷺ کو گوشت کھا کر دوبارہ وضو کیے بغیر نماز پڑھتے دیکھا تھا۔
اس لیے انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی توجہ اس طرف مبذول کرانے کے لیے سوال کیا۔
لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے غالباً آپ ﷺ کا یہ عمل نہیں دیکھا اس لیے وہ اپنے موقف پر قائم رہے یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس اجازت کا علم تو ہو لیکن وہ چاہتے ہوں کہ لوگ افضلیت کو اختیار کریں۔

(3)
جب حدیث میں کسی حکم کو عام رکھا گیا ہو تو اسے عام ہی سمجھنا چاہیے حتی کہ دوسرے دلائل سے معلوم ہوجائے کہ فلاں صورت اس عموم میں شامل نہیں۔

(4)
آئندہ باب کی احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حکم وجوبی نہیں یعنی آگ کی پکی ہوئی چیز کھا پی کروضو کرنا لازم نہیں بہتر اور افضل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 485 سے ماخوذ ہے۔