سنن نسائي
كتاب قيام الليل وتطوع النهار— کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
بَابُ : كَيْفَ الْوِتْرُ بِخَمْسٍ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الْحَكَمِ فِي حَدِيثِ الْوِتْرِ باب: پانچ رکعت وتر کیسے پڑھی جائے؟ اور وتر کی حدیث کے سلسلے میں حکم سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 1718
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِخَمْسٍ , وَلَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے ، اور ان کے آخر ہی میں بیٹھتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1718
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´پانچ رکعت وتر کیسے پڑھی جائے؟ اور وتر کی حدیث کے سلسلے میں حکم سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے، اور ان کے آخر ہی میں بیٹھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1718]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے، اور ان کے آخر ہی میں بیٹھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1718]
1718۔ اردو حاشیہ: باب کی روایات سے معلوم ہوا کہ اگر پانچ رکعت وتر اکٹھے پڑھے جائیں تو آخری رکعت کے سوا کسی میں تشہد کے لیے نہ بیٹھے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1718 سے ماخوذ ہے۔