حدیث نمبر: 1716
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ ، قال : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِسَبْعٍ أَوْ بِخَمْسٍ لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´منصور حکم سے روایت کرتے ہیں ، اور وہ مقسم سے اور مقسم ابن عباس رضی اللہ عنہم سے اور ابن عباس رضی اللہ عنہم ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے وہ کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سات یا پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے ، اور ان کے درمیان سلام کے ذریعہ فصل نہیں کرتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1716
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18181) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1705 | سنن ابي داود: 1356

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1356 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´تہجد کی رکعتوں کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ کے پاس رہا، شام ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا: " کیا بچے نے نماز پڑھ لی؟ " لوگوں نے کہا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے یہاں تک کہ جب رات اس قدر گزر گئی جتنی اللہ کو منظور تھی تو آپ اٹھے اور وضو کر کے سات یا پانچ رکعتیں وتر کی پڑھیں اور صرف آخر میں سلام پھیرا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1356]
1356. اردو حاشیہ: فائدہ: گھر والوں کی بالخصوص ماں کی ذمہ داری ہے کہ نوخیز بچوں کی نماز اور دیگر اعمال خیر کا عادی بنائے اور والد یا سرپرست کا حق ہے کہ ان امور کے متعلق خبردار رہے یا باز پرس کرتا رہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1356 سے ماخوذ ہے۔