حدیث نمبر: 1699
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قال : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قال : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ لَا يُسَلِّمُ فِي رَكْعَتَيِ الْوِتْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی تینوں رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1699
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 334
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16116) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´تین رکعت وتر پڑھنے کی کیفیت کا بیان؟`
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1699]
1699۔ اردو حاشیہ: مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے، نیز شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے شاذ قرار دیا ہے جبکہ علامہ ایتوبی رحمہ اللہ (شارح سنن نسائی) نے امام محمد بن نصر رحمہ اللہ سے درج ذیل مطلب نقل کر کے اس کی تحسین کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دورکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرتے بلکہ سات یا نورکعات کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے، تین رکعات کے بعد پھیرتے تھے، یہ ثابت نہیں بلکہ اس کے خلاف ثابت ہے۔ شارح نسائی علامہ ایتوبی رحمہ اللہ نے امام محمد بن نصر مروزی سے یہ مطلب نقل کر کے اس کی تحسین کی ہے۔ دیکھیے: (ذخیرۃ العقبٰی، شرح سنن النسائی: 18؍63، 64، وارواء الغلیل، رقم: 421)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1699 سے ماخوذ ہے۔