سنن نسائي
كتاب قيام الليل وتطوع النهار— کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
بَابُ : تَسْوِيَةِ الْقِيَامِ وَالرُّكُوعِ وَالْقِيَامِ بَعْدَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ باب: تہجد میں قیام، رکوع، رکوع کے بعد قیام، سجدہ، اور دونوں سجدوں کے درمیان کی بیٹھک سب کے برابر ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قال : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ , فَقُلْتُ : يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ فَمَضَى , فَقُلْتُ : يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَتَيْنِ فَمَضَى فَقُلْتُ : يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ فَمَضَى ، فَافْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا ، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا ، يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ ، ثُمَّ رَكَعَ , فَقَالَ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَكَانَ قِيَامُهُ قَرِيبًا مِنْ رُكُوعِهِ ، ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ يَقُولُ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ رُكُوعِهِ " .
´حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو آپ نے سورۃ البقرہ شروع کر دی ، میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ سو آیت پر رکوع کریں گے لیکن آپ بڑھ گئے تو میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ دو سو آیت پر رکوع کریں گے لیکن آپ اس سے بھی آگے بڑھ گئے ، تو میں نے اپنے جی میں کہا : آپ ایک ہی رکعت میں پوری سورۃ پڑھ ڈالیں گے ، لیکن اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور سورۃ نساء شروع کر دی ، اور اسے پڑھ چکنے کے بعد سورۃ آل عمران شروع کر دی ، اور پوری پڑھ ڈالی ، آپ نے یہ پوری قرآت آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر کی ، اس طرح کہ جب آپ کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح ( پاکی ) کا ذکر ہوتا تو آپ اس کی پاکی بیان کرتے ، اور جب کسی سوال کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ، اور جب کسی پناہ کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ، پھر آپ نے رکوع کیا ، اور « سبحان ربي العظيم» ” پاک ہے میرا رب جو عظیم ہے “ کہا ، آپ کا رکوع تقریباً آپ کے قیام کے برابر تھا ، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا ، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا ، آپ کا قیام تقریباً آپ کے رکوع کے برابر تھا ، پھر آپ نے سجدہ کیا ، اور سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى» ” پاک ہے میرا رب جو اعلیٰ ہے “ پڑھ رہے تھے ، اور آپ کا سجدہ تقریباً آپ کے رکوع کے برابر تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں نماز پڑھی، تو آپ نے قرأت کی، آپ جب کسی عذاب کی آیت سے گزرتے تو تھوڑی دیر ٹھہرتے، اور پناہ مانگتے، اور جب کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو دعا کرتے ۱؎، اور رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہتے، اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» کہتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1009]
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ کے پہلو میں جا کر کھڑے ہو گئے، آپ نے «اللہ أكبر ذو الملكوت والجبروت والكبرياء والعظمة» کہا، پھر آپ نے سورۃ البقرہ پڑھی، پھر رکوع کیا، آپ کا رکوع تقریباً آپ کے قیام کے برابر رہا، اور آپ نے رکوع میں: «سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم» کہا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا تو: «لربي الحمد لربي الحمد» کہا، اور آپ اپنے سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى سبحان ربي الأعلى» اور دونوں سجدوں کے درمیان «رب اغفر لي رب اغفر لي» کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1146]
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جب کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کرتے، اور عذاب کی آیت آتی تو اس سے پناہ مانگتے، اور جب کوئی ایسی آیت آتی جس میں اللہ تعالیٰ کی پاکی ہوتی تو تسبیح کہتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1351]
فوئد و مسائل: (1)
قراءت قرآن انتہائی غور وفکر سے کرنی چاہیے۔
خواہ نماز کے دوران میں ہو یا اس کے علاوہ-
(2)
تلاوت قرآن کا ایک ادب یہ بھی ہے کہ رحمت کی آیات پر دعا اور آیات عذاب پر تعوذ کیا جائے۔
اور یہ تبھی ممکن ہے جب اس کا ترجمہ اور مفہوم آتا ہو۔
ہمارے ہاں مساجد میں امام کی قراءت کے دوران میں مقتدی بلند آواز سے ان آیات کا جواب دیتے ہیں۔
جو کہ کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔
لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(3)
اللہ کی تسبیح کا طریقہ یہ ہے کہ سبحان اللہ کہا جائے۔
یعنی اللہ پاک ہے عذاب کی آیت پر (اللهم أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ)
’’اے اللہ! مجھے آگ (کے عذاب)
سے پناہ دے۔‘‘
یا ایسی کوئی مناسب دعا پڑھی جاسکتی ہے۔