حدیث نمبر: 1626
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، قال : أَنْبَأَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، قال : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قال : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قال : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قال : سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ ؟ قَالَتْ : كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ , قَالَ : " اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ , وَمِيكَائِيلَ , وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ , عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ، اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ , إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کی شروعات کس چیز سے کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : آپ جب رات میں اٹھ کر اپنی نماز شروع کرتے تو کہتے : «اللہم رب جبريل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اللہم اهدني لما اختلف فيه من الحق إنك تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم» ” اے اللہ ! اے جبرائیل و میکائیل و اسرافیل کے رب ، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ، غائب اور حاضر کے جاننے والے ! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا جس میں وہ جھگڑتے تھے ، اے اللہ ! جس میں اختلاف کیا گیا ہے اس میں تو میری رہنمائی فرما ، تو جس کی چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف رہنمائی فرماتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1626
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 770 | سنن ترمذي: 3420 | سنن ابي داود: 767 | سنن ابن ماجه: 1357

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 770 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
موت کے فرشتے (ملک الموت) کا نام عزرائیل
جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام کے نام قرآن مجید سے ثابت ہیں۔ دیکھئے: [سورة البقرة: 98]

اسرافیل علیہ السلام کا نام صحیح مسلم [770، دارالسلام: 1811] میں مذکور ہے۔

لیکن موت کے فرشتے (ملک الموت) کا نام عزرائیل کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے۔

وہب بن منبہ تابعی سے ایک موقوف (مقطوع) روایت میں یہ نام آیا ہے۔

لیکن اس کی سند میں محمد بن ابراہیم بن العلاء منکر الحدیث ہے۔

دیکھئے: [العظمة لابي الشيخ لاصبهاني 3/ 848 ح 394، 3/ 900 ح439]

لہٰذا یہ روایت سخت ضعیف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔

اشعث نامی کسی تبع تابعی سے ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ملک الموت علیہ السلام کا نام عزرائیل ہے۔ [كتاب العظمة لابي الشيخ ج3ص 909 ح 443 وسنده صحيح]

اشعث تک سند صحیح ہے اور اشعث کے بارے میں شیخ رضاء اللہ بن محمد ادریس مبارکپوری لکھتے ہیں: وہ اشعث بن اسلم العجلی البصری الربعی ہیں۔ [ايضاً مترجماً]

اشعث بن اسلم رحمہ اللہ کے بارے میں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا: «ثقة» [تاريخ يحييٰ بن معين، رواية الدوري: 3403، الجرح والتعديل لابن ابي حاتم 2/ 269 وسنده صحيح]

حافظ ابن حبان نے انہیں کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے۔ [6/ 63]

معلوم ہوا کہ عزرائیل کا لفظ تبع تابعین کے دور سے ثابت ہے۔ «والله اعلم»

دیکھئے: اضواء المصابیح فی تحقیق مشکوۃ المصابیح حدیث 144 کا تفقہ صفحہ 198
درج بالا اقتباس ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 999 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3420 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نماز تہجد شروع کرتے وقت کی دعا کا بیان۔`
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: رات میں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو اپنی نماز کے شروع میں کیا پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب رات کو کھڑے ہوتے، نماز شروع کرتے وقت یہ دعا پڑھتے: «اللهم رب جبريل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنك تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم» اے اللہ! جبرائیل، میکائیل و اسرافیل کے رب! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، چھپے اور کھلے کے جاننے والے، اپنے بندوں کے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3420]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! جبرئیل، میکائیل و اسرافیل کے رب! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، چھپے اور کھلے کے جاننے والے، اپنے بندوں کے درمیان ان کے اختلافات کا فیصلہ کرنے والا ہے، اے اللہ! جس چیز میں بھی اختلاف ہوا ہے اس میں حق کو اپنانے، حق کو قبول کرنے کی اپنے اذن وحکم سے مجھے ہدایت فرما، (توفیق دے) کیونکہ تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھی راہ پر چلاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3420 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1357 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´رات میں آدمی جاگے تو کیا دعا پڑھے؟`
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں قیام کرتے تو کس دعا سے اپنی نماز شروع کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم رب جبرئيل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنك لتهدي إلى صراط مستقيم» اے اللہ! جبرائیل، ۱؎ میکائیل، اور اسرافیل کے رب، آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے، غائب اور حاضر کے جاننے والے، تو اپنے بندوں کے درمیان ان کے اختلافی امور میں فیصلہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1357]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نماز تہجد میں یہ دعا بھی دعائے استفتاح کے طور پر پڑھی جاسکتی ہے۔

(2)
جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہ السلام اللہ کے مقرب ترین اور افضل ترین فرشتے ہیں۔
لیکن وہ بھی اللہ کے بندے ہیں۔
اور اللہ ان کا بھی رب ہے۔
رب کی صفات اور اختیارات میں ان کا بھی کوئی حصہ نہیں۔
توحید کا یہ نکتہ توجہ کے قابل ہے۔

(3)
بندوں کے اختلافات کا فیصلہ دنیا میں انبیائے کرام علیہ السلام کی بعثت اور ان پر وحی کے نزول کے ذریعے سے کردیا گیا ہے۔
پھر بھی بعض لوگ نئے نئے شبہات پیدا کرکے اختلاف ڈالتے ہیں۔
یا حق واضح ہوجانے کے بعد بھی حق کو قبول نہیں کرتے۔
اور جھگرنے سے باز نہیں آتے۔
ان کا فیصلہ قیامت ہی کو ہو گا۔
جب انھیں سزا ملے گی اور نیک لوگ اللہ کے انعامات سے بہرہ ور ہوں گے۔

(4)
ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
اس لئے اللہ سے ہدایت کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔

(5)
جبرئیل کا لفظ کئی طرح پڑھا جا سکتا ہے۔
جَبْرِیْل، جَبْرِیْل، جِبْرَئِیْل، جَبْرَئِیْل، جِبْرَائِیْل۔
 لیکن اس دعا میں جبرئیل ہمزہ کے ساتھ ہے۔

(6)
محدثین کرام حدیث کےالفاظ پر بھی توجہ دیتے تھے۔
اور ہر لفظ اس طرح روایت کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
جس طرح استاد سے سنا ہو۔
حالانکہ روایت بالمعنیٰ جائز ہے۔
محدثین کے اس طرز عمل سے ان کی دیانت اور صداقت ظاہر ہوتی ہے۔
اور یہ کہ ان کی روایت کردہ احادیث قابل عمل اور قابل اعتماد ہیں۔
بشرط یہ کہ صحت حدیث کے معیار پر پوری اتریں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1357 سے ماخوذ ہے۔