سنن نسائي
كتاب قيام الليل وتطوع النهار— کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى أَبِي حَصِينٍ عُثْمَانَ بْنِ عَاصِمٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ باب: اس حدیث کی روایت میں ابوحصین عثمان بن عاصم پر رواۃ کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1625
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قال : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قال : أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قال : " كُنَّا نُؤْمَرُ إِذَا قُمْنَا مِنَ اللَّيْلِ أَنْ نَشُوصَ أَفْوَاهَنَا بِالسِّوَاكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسرائیل ابوحصین سے روایت کرتے ہیں کہ` ابووائل شقیق نے کہا : جب ہم رات کو بیدار ہوتے تھے تو ہمیں مسواک سے اپنا منہ ملنے کا حکم دیا جاتا تھا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1625
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´اس حدیث کی روایت میں ابوحصین عثمان بن عاصم پر رواۃ کے اختلاف کا بیان۔`
اسرائیل ابوحصین سے روایت کرتے ہیں کہ ابووائل شقیق نے کہا: جب ہم رات کو بیدار ہوتے تھے تو ہمیں مسواک سے اپنا منہ ملنے کا حکم دیا جاتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1625]
اسرائیل ابوحصین سے روایت کرتے ہیں کہ ابووائل شقیق نے کہا: جب ہم رات کو بیدار ہوتے تھے تو ہمیں مسواک سے اپنا منہ ملنے کا حکم دیا جاتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1625]
1625۔ اردو حاشیہ: امام صاحب رحمہ اللہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ مسواک کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل بھی ہے اور حکم بھی، پھر یہ روایت مرفوع بھی ہے، موقوف اور مقطوع بھی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1625 سے ماخوذ ہے۔