حدیث نمبر: 1618
أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، قال : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، قال : حَدَّثَنَا الْأَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ ، قال : سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ قِيَامَ اللَّيْلِ ؟ قَالَتْ : لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ عَشْرًا , وَيَحْمَدُ عَشْرًا , وَيُسَبِّحُ عَشْرًا , وَيُهَلِّلُ عَشْرًا , وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا , وَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي , أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے قیام کی شروعات کس سے کرتے تھے ؟ تو وہ کہنے لگیں ، تو نے مجھ سے ایک ایسی چیز پوچھی ہے جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس بار «اللہ اکبر» ، دس بار «الحمد للہ» ، دس بار «سبحان اللہ» اور دس بار «لا الٰہ الا اللہ» اور دس بار «استغفر اللہ» کہتے تھے ، اور «اللہم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني أعوذ باللہ من ضيق المقام يوم القيامة» ” اے اللہ ! مجھے بخش دے ، مجھے راہ دکھا ، مجھے رزق عطا فرما ، اور میری حفاظت فرما ، میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں قیامت کے روز جگہ کی تنگی سے “ کہتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1618
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 766 | سنن ابي داود: 5085 | سنن ابن ماجه: 1356 | سنن نسائي: 5538

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´قیام اللیل کس دعا سے شروع کی جائے؟`
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے قیام کی شروعات کس سے کرتے تھے؟ تو وہ کہنے لگیں، تو نے مجھ سے ایک ایسی چیز پوچھی ہے جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس بار «اللہ اکبر» ، دس بار «الحمد للہ» ، دس بار «سبحان اللہ» اور دس بار «لا الٰہ الا اللہ» اور دس بار «استغفر اللہ» کہتے تھے، اور «اللہم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني أعوذ باللہ من ضيق المقام يوم القيامة» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے راہ دکھا، مجھے رزق عطا فرما، اور میری حفاظت فرما، میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں قیامت کے روز جگہ کی تنگی سے کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1618]
1618۔ اردو حاشیہ: قیام اللیل کے آغاز سے مراد یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کے لیے اٹھتے تو نماز تہجد سے پہلے یہ دعائیں پڑھا کرتے تھے۔ ان (گزشتہ اور آئندہ) دعاؤں میں بہت سی ایسی دعائیں ہیں جن کو ظاہر آپ کو ضروری نہیں مگر آپ نے اپنی امت کی تعلیم کے لیے وہ دعائیں پڑھیں کیونکہ امتیوں کو تو بہرصورت ان کی ضرورت ہے۔ کہا: جا سکتا ہے کہ آپ کی دعائیں دراصل آپ کی امت کے لیے ہیں۔ (علاوہ ان دعاؤں کے جو آپ کے ساتھ مخصوص ہیں۔)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1618 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1356 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´رات میں آدمی جاگے تو کیا دعا پڑھے؟`
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کی ابتداء کس چیز سے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق سوال کیا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق یہ سوال نہیں کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ «الله أكبر» ، دس مرتبہ «الحمد لله» ، دس مرتبہ «سبحان الله» ، دس مرتبہ «استغفرالله» کہتے، اور اس کے بعد یہ دعا پڑھتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق دے، اور مجھے عافیت دے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1356]
اردو حاشہ:
فائدہ:  (ضِيقِ الْمُقَامِ)
سے پناہ کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ! جب قیامت کے دن تیرے سامنے پیش ہوکر زندگی کے اعمال کا حساب دینا ہے۔
اس و قت مشکل نہ بنے آسانی سے حساب کتاب سے فراغت ہوجائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1356 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5538 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نہ سنی جانے والی دعا سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللہم إني أعوذ بك من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعا لا يسمع» اے اللہ! میں اس علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو مفید اور نفع بخش نہ ہو، اس دل سے جس میں (اللہ کا) ڈر نہ ہو، اس نفس سے جو سیر نہ ہو اور اس دعا سے جو قبول نہ ہو۔‏‏‏‏ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: سعید نے یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی بلکہ اپنے بھائی سے س [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5538]
اردو حاشہ: (1) امام رحمہ اللہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ یہ سند منقطع ہے تاہم روایت صحیح ہے کیونکہ اگلی روایت کی سند میں انقطاع ہے۔ واللہ أعلم۔
(2) جو قبول نہ ہو مقصد یہ ہے کہ یا اللہ مجھے ان خرابیوں سے بچا جن کی بنا پر دعا قبول نہیں ہوتی، مثلا: رزق حرام، عدم خلوص، ناجائز دعا وغیرہ۔ (باقی تفصیلات دیکھیے حدیث: حدیث نمبر: 5444)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5538 سے ماخوذ ہے۔