حدیث نمبر: 1611
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قال : حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى ثُمَّ أَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ ، وَرَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ ثُمَّ أَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَصَلَّى ، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ رحم کرے اس آدمی پر جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے ، پھر اپنی بیوی کو بیدار کرے ، تو وہ ( بھی ) نماز پڑھے ، اگر نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ، اور اللہ رحم کرے اس عورت پر جو رات کو اٹھے اور تہجد پڑھے ، پھر اپنے شوہر کو ( بھی ) بیدار کرے ، تو وہ بھی تہجد پڑھے ، اور اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: کیونکہ پانی کے چھینٹے مارنے سے وہ جاگ جائے گا، اور نماز پڑھے گا تو وہ بھی اس کی مستحق ہو گی۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1611
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الصلاة 307 (1308)، 348 (1450)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 175 (1336)، (تحفة الأشراف: 12860) ، مسند احمد 2/250، 436 (حسن صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1308 | سنن ابي داود: 1450 | سنن ابن ماجه: 1336

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´قیام اللیل (تہجد) کی ترغیب کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ رحم کرے اس آدمی پر جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے، پھر اپنی بیوی کو بیدار کرے، تو وہ (بھی) نماز پڑھے، اگر نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اور اللہ رحم کرے اس عورت پر جو رات کو اٹھے اور تہجد پڑھے، پھر اپنے شوہر کو (بھی) بیدار کرے، تو وہ بھی تہجد پڑھے، اور اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1611]
1611۔ اردو حاشیہ: ➊ یہ ایک آدھ رات کی بات نہیں بلکہ عادت کی بات ہے کہ وہ ایسے کرتے ہیں۔ کیا ہی خوب ہیں یہ میاں بیوی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ میں ان کے لیے دعا بھی ہے، تعریف بھی اور ترغیب بھی، اور یہ حقیقت بھی کہ وہ اللہ کی رحمت کے مستحق ہیں۔ وفقنا اللہ ایاہ۔
➋ جس طرح میّت کے لیے رحمت کی دعا کی جاتی ہے، اسی طرح زندہ کے لیے بھی دعائے رحمت کرنا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1611 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1450 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نماز تہجد پڑھنے کی ترغیب دینے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے، پھر نماز پڑھے اپنی بیوی کو بھی جگائے تو وہ بھی نماز پڑھے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ رحم فرمائے اس عورت پر جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے، اپنے شوہر کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1450]
1450. اردو حاشیہ: یہ حدیث پیچھے بھی گزری ہے۔(1308)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1450 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1308 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´تہجد (قیام اللیل) کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1308]
1308. اردو حاشیہ: فائدہ: مذکورہ بالاعمل ﴿تَعاوَنوا عَلَى البِرِّ‌ وَالتَّقوىٰ﴾... سورۃ المائدۃ کی شاندار عملی تفسیر ہے۔ اور اس میں یہ بھی ہے کہ اپنے اعزہ و احباب کو خیر کے کاموں پر زور سے آمادہ کرنا مستحب اور مطلوب عمل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1308 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1336 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´(عبادت کے لیے) رات میں بیوی کو جگانے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے، جو رات میں بیدار ہوا، اور نماز پڑھی، اور اپنی بیوی کو بھی جگایا، اس نے نماز پڑھی، اگر نہ اٹھی تو اس کے چہرہ پہ پانی چھڑکا، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم کرے، جو رات میں بیدار ہوئی، پھر اس نے نماز پڑھی اور اپنے شوہر کو جگایا، اس نے بھی نماز پڑھی اگر نہ اٹھا تو اس کے منہ پر پانی چھڑکا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1336]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
میاں بیوی میں سے اگر ایک تہجد پڑھنے کاعادی ہو تو اسے چاہیےکہ دوسرے کو یہ عادت ڈالنے کی کوشش کرے۔

(2)
اگر نیند غالب ہو تو پانی کے چھینٹوں سے بیدار ہونا آسان ہوجائے گا۔
پھر وضو کرکے نماز ادا کی جا سکے گی۔
مطلب یہ ہے کہ پوری کوشش کی جائے۔
کہ خاوند یا بیوی میں سے کوئی بھی اس نیکی سے محروم نہ رہے۔

(3)
نیکی میں تعاون اور ترغیب کا یہ عمل اللہ کی رحمت کا باعث ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1336 سے ماخوذ ہے۔