سنن نسائي
ذكر الفطرة— ابواب: فطری (پیدائشی) سنتوں کا تذکرہ
بَابُ : الإِبْعَادِ عِنْدَ إِرَادَةِ الْحَاجَةِ باب: قضائے حاجت کے لیے دور جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ ، وَعُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَلَاءِ ، وَكَانَ " إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن ابی قراد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قضائے حاجت کے لیے نکلا ، اور آپ جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو دور جاتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: تاکہ لوگ آپ کو دیکھ نہ سکیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح ابن خزيمه / حدیث: 51 کی شرح از الشیخ محمد فاروق رفیع ✍️
سیدنا عبدالرحمٰن بن ابو قراد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کے لیے) نکلا، (ایک دفعہ) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے (حا جت پوری کرنےکےبعد) نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائےحاجت کا ارادہ کرتے تھے تو (لوگوں سے) دور تشریف لے جاتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه: 51]
فوائد:
ان احادیث میں قضائے حاجت کے آداب کا بیان ہے کہ کھلی جگہ میں قضائے حاجت کے وقت اتنا دور جانا چاہے کہ انسان لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو جائے۔ یا اگر نشیبی جگہیں ہیں، جہاں کوئی آڑ موجود ہو تو ان جگہوں میں قضائے حاجت کرنا بھی درست ہے، خواہ وہ آبادی کے قریب ہی ہوں، اسی طرح بیت الخلاء، یا کپڑے وغیرہ سے پردہ کر کے قضائے حاجت کرنا بھی درست ہے۔ قضائے حاجت میں مطلوب ستر ڈھانپنا ہے، وہ جیسے اور جہاں حاصل ہو جائے قضائے حاجت کرنا جائز و درست ہے۔
ان احادیث میں قضائے حاجت کے آداب کا بیان ہے کہ کھلی جگہ میں قضائے حاجت کے وقت اتنا دور جانا چاہے کہ انسان لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو جائے۔ یا اگر نشیبی جگہیں ہیں، جہاں کوئی آڑ موجود ہو تو ان جگہوں میں قضائے حاجت کرنا بھی درست ہے، خواہ وہ آبادی کے قریب ہی ہوں، اسی طرح بیت الخلاء، یا کپڑے وغیرہ سے پردہ کر کے قضائے حاجت کرنا بھی درست ہے۔ قضائے حاجت میں مطلوب ستر ڈھانپنا ہے، وہ جیسے اور جہاں حاصل ہو جائے قضائے حاجت کرنا جائز و درست ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 51 سے ماخوذ ہے۔