سنن نسائي
كتاب الاستسقاء— کتاب: بارش طلب کرنے کے احکام و مسائل
بَابُ : مَسْأَلَةِ الإِمَامِ رَفْعَ الْمَطَرِ إِذَا خَافَ ضَرَرَهُ باب: جب بارش سے نقصان کا ڈر ہو تو امام۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قال : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال : قَحَطَ الْمَطَرُ عَامًا ، فَقَامَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَحَطَ الْمَطَرُ وَأَجْدَبَتِ الْأَرْضُ وَهَلَكَ الْمَالُ , قَالَ : " فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً ، فَمَدَّ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ يَسْتَسْقِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " , قَالَ : فَمَا صَلَّيْنَا الْجُمُعَةَ حَتَّى أَهَمَّ الشَّابَّ الْقَرِيبَ الدَّارِ الرُّجُوعُ إِلَى أَهْلِهِ فَدَامَتْ جُمُعَةٌ ، فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الَّتِي تَلِيهَا , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَاحْتَبَسَ الرُّكْبَانُ , قَالَ : " فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسُرْعَةِ مَلَالَةِ ابْنِ آدَمَ وَقَالَ بِيَدَيْهِ : " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَتَكَشَّطَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ " .
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک سال بارش نہیں ہوئی تو کچھ مسلمان جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! بارش نہیں ہو رہی ہے ، زمین سوکھ گئی ہے ، اور جانور ہلاک ہو گئے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا ، اور اس وقت آسمان میں ہمیں بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو خوب دراز کیا یہاں تک کہ مجھے آپ کے بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی ، آپ اللہ تعالیٰ سے پانی برسنے کے لیے دعا کر رہے تھے ۔ ابھی ہم جمعہ کی نماز سے فارغ بھی نہیں ہوئے تھے ( کہ بارش ہونے لگی ) یہاں تک کہ جس جوان کا گھر قریب تھا اس کو بھی اپنے گھر جانا مشکل ہو گیا ، اور برابر دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی ، جب اگلا جمعہ آیا تو لوگ کہنے لگے : اللہ کے رسول ! گھر گر گئے ، اور سوار محبوس ہو کر رہ گئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن آدم ( انسان ) کے جلد اکتا جانے پر مسکرائے ، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کی : «اللہم حوالينا ولا علينا» ” اے اللہ ! ہمارے اطراف میں برسا اور ( اب ) ہم پر نہ برسا “ تو مدینہ سے بادل چھٹ گئے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک سال بارش نہیں ہوئی تو کچھ مسلمان جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! بارش نہیں ہو رہی ہے، زمین سوکھ گئی ہے، اور جانور ہلاک ہو گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، اور اس وقت آسمان میں ہمیں بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو خوب دراز کیا یہاں تک کہ مجھے آپ کے بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی، آپ اللہ تعالیٰ سے پانی برسنے کے لیے دعا کر رہے تھے۔ ابھی ہم جمعہ کی نماز سے فارغ بھی نہیں ہوئے تھے (کہ بارش ہونے لگی) یہاں تک کہ جس جوان کا گھر قریب تھا اس کو بھی اپنے گھر جانا مشکل ہو گیا، اور برابر دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی، جب اگلا جمعہ آیا تو لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول! گھر گر گئے، اور سوار محبوس ہو کر رہ گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن آدم (انسان) کے جلد اکتا جانے پر مسکرائے، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کی: «اللہم حوالينا ولا علينا» ” اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا اور (اب) ہم پر نہ برسا “ تو مدینہ سے بادل چھٹ گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1528]
جن حضرات نے خطبہ کو نماز کا درجہ دے کر اس میں بوقت ضرورت تکلم کو بھی منع بتلایا ہے، اس حدیث سے ظاہر ہے کہ ان کا یہ خیال صحیح نہیں ہے۔
علامہ شوکانی اس واقعہ پر لکھتے ہیں: وَفِي الْحَدِيثِ فَوَائِدُ: مِنْهَا جَوَازُ الْمُكَالَمَةِ مِنْ الْخَطِيبِ حَالَ الْخُطْبَةِ وَتَكْرَارِ الدُّعَاءِ وَإِدْخَالِ الِاسْتِسْقَاءِ فِي خُطْبَةِ الْجُمُعَةِ وَالدُّعَاءِ بِهِ عَلَى الْمِنْبَرِ وَتَرْكِ تَحْوِيلِ الرِّدَاءِ وَالِاسْتِقْبَالِ وَالِاجْتِزَاءِ بِصَلَاةِ الْجُمُعَةِ عَنْ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ كَمَا تَقَدَّمَ. وَفِيهِ عِلْمٌ مِنْ أَعْلَامِ النُّبُوَّةِ فِي إجَابَةِ اللَّهِ تَعَالَى دُعَاءَ نَبِيِّهِ وَامْتِثَالُ السَّحَابِ أَمْرَهُ كَمَا وَقَعَ فِي كَثِيرٍ مِنْ الرِّوَايَاتِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ الْفَوَائِدِ. (نیل الأوطار)
یعنی اس حدیث سے بہت سے مسائل نکلتے ہیں مثلا حالت خطبہ میں خطیب سے بات کرنے کا جواز نیز دعا کرنا (اور اس کے لیے ہاتھوں کو اٹھا کردعا کرنا)
اورخطبہ جمعہ میں استسقاءکی دعاءاور استسقاءکے لیے ایسے موقع پر چادر الٹنے پلٹنے کو چھوڑ دینا اور کعبہ رخ بھی نہ ہونا اور نماز جمعہ کو نماز استسقاءکے بدلے کافی سمجھنا اور اس میں آپ کی نبوت کی ایک اہم دلیل بھی ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور بادلوں کو آپ کا فرمان تسلیم کرنے پر مامور فرما دیا اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔
آپ نے کن لفظوں میں دعائے استسقاء کی۔
اس بارے میں بھی کئی روایات ہیں جن میں جامع دعائیں یہ ہیں: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: 2] {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 3] {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} [الفاتحة: 4] لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ، يَفْعَلُ اللَّهُ مَا يُرِيدُ اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لَا إلَهَ إلَّا أَنْتَ علامہ شوکانی اس واقعہ پر لکھتے ہیں: وَفِي الْحَدِيثِ فَوَائِدُ: مِنْهَا جَوَازُ الْمُكَالَمَةِ مِنْ الْخَطِيبِ حَالَ الْخُطْبَةِ وَتَكْرَارِ الدُّعَاءِ وَإِدْخَالِ الِاسْتِسْقَاءِ فِي خُطْبَةِ الْجُمُعَةِ وَالدُّعَاءِ بِهِ عَلَى الْمِنْبَرِ وَتَرْكِ تَحْوِيلِ الرِّدَاءِ وَالِاسْتِقْبَالِ وَالِاجْتِزَاءِ بِصَلَاةِ الْجُمُعَةِ عَنْ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ كَمَا تَقَدَّمَ. وَفِيهِ عِلْمٌ مِنْ أَعْلَامِ النُّبُوَّةِ فِي إجَابَةِ اللَّهِ تَعَالَى دُعَاءَ نَبِيِّهِ وَامْتِثَالُ السَّحَابِ أَمْرَهُ كَمَا وَقَعَ فِي كَثِيرٍ مِنْ الرِّوَايَاتِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ الْفَوَائِدِ. (نیل الاوطار)
یعنی اس حدیث سے بہت سے مسائل نکلتے ہیں مثلا حالت خطبہ میں خطیب سے بات کرنے کا جواز نیز دعا کرنا (اور اس کے لیے ہاتھوں کو اٹھا کردعا کرنا)
اورخطبہ جمعہ میں استسقاءکی دعاءاور استسقاءکے لیے ایسے موقع پر چادر الٹنے پلٹنے کو چھوڑ دینا اور کعبہ رخ بھی نہ ہونا اور نماز جمعہ کو نماز استسقاءکے بدلے کافی سمجھنا اور اس میں آپ کی نبوت کی ایک اہم دلیل بھی ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور بادلوں کو آپ کا فرمان تسلیم کرنے پر مامور فرما دیا اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔
آپ نے کن لفظوں میں دعائے استسقاء کی۔
اس بارے میں بھی کئی روایات ہیں جن میں جامع دعائیں یہ ہیں: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: 2] {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 3] {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} [الفاتحة: 4] لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ، يَفْعَلُ اللَّهُ مَا يُرِيدُ اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لَا إلَهَ إلَّا أَنْتَ، أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلَتْ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إلَى حِينٍ اللھم اسقنا غیثا مغیثا مریئا مریعا طبقا غدقا عاجلا غیررائث اللھم اسق عبادك وبھا ئمك وانشر رحمتك وأحي بلدك المیت۔
یہ بھی امر مشروع ہے کہ ایسے مواقع پر اپنے میں سے کسی نیک بزرگ کو دعا کے لیے آگے بڑھا یا جائے اور وہ اللہ سے رو رو کر دعا کرے اور لوگ پیچھے سے آمین آمین کہہ کر تضرع وزاری کے ساتھ اللہ سے پانی کا سوال کریں۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بحالت خطبہ امام سے کسی عوامی ضرورت کے لیے دعا کی درخواست کی جا سکتی ہے اور امام دوران خطبہ ہی میں ایسی درخواست پر عمل درآمد کر سکتا ہے۔
(2)
استسقاء کی تین صورتیں ہیں: ٭ باقاعدہ باہر کسی کھلے میدان میں جا کر نماز پڑھنا پھر ایک مخصوص طریقے سے دعا کرنا۔
٭ کسی بھی نماز کے بعد بارش کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا۔
٭ دوران خطبہ میں کسی کی درخواست پر ہاتھ اٹھا کر بارش کے لیے دعا کرنا۔
امام بخاری ؒ نے اس آخری صورت کو یہاں بیان کیا ہے۔
اس کا تفصیلی ذکر کتاب الاستسقاء میں آئے گا۔
(3)
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ایک اہم معجزہ بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو آپ کا فرمان تسلیم کرنے پر مامور فرما دیا۔
واللہ أعلم۔