حدیث نمبر: 1502
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ سَمُرَةَ , " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ حِينَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ : أَمَّا بَعْدُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت سورج گرہن لگا خطبہ دیا تو آپ نے ( حمد و ثنا کے بعد ) «أما بعد» کہا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الكسوف / حدیث: 1502
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´گرہن لگنے پر کس طرح خطبہ دیا جائے؟`
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت سورج گرہن لگا خطبہ دیا تو آپ نے (حمد و ثنا کے بعد) «أما بعد» کہا۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1502]
1502۔ اردو حاشیہ: خطبے میں حمدوصلاۃ کے بعد کہا جاتا ہے: اما بعد! یعنی حمدوصلاۃ کے بعد میرا مقصود یہ ہے۔ اور اس کے بعد مقصد بیان کیا جاتا ہے۔ یہ حدیث گزر چکی ہے۔ دیکھیے، حدیث: 1485
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1502 سے ماخوذ ہے۔