سنن نسائي
كتاب الكسوف— کتاب: (چاند، سورج) گرہن کے احکام و مسائل
بَابُ : التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ باب: سورج گرہن کی نماز میں تشہد پڑھنے اور سلام پھیرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قال : حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكُسُوفِ ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ انْصَرَفَ " .
´اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہم کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کی نماز پڑھی ، تو آپ نے قیام کیا تو لمبا قیام کیا ، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا ، پھر ( اپنا سر رکوع سے ) اٹھایا تو لمبا قیام کیا ، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا ، پھر اپنا سر رکوع سے اٹھایا ، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا ، پھر ( اپنا سر سجدہ سے ) اٹھایا ، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا ، پھر آپ نے قیام کیا تو لمبا قیام کیا ، پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا ، پھر اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا ، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا ، پھر اپنا سر اٹھایا ، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا ، پھر اپنا سر اٹھایا ، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا ، پھر اپنا سر اٹھایا ، اور نماز سے فارغ ہو گئے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
إن ھذہ المرأة لما حبست هذہ الهرة إلی أن ماتت بالجوع و العطش فاستحقت هذہ العذاب فلو کانت سقیتها لم تغذب و من ههنا یعلم فضل سقي الماء و هو مطابق للترجمة۔
(عینی)
نماز کے بعد خطبہ اوردعا بھی ثابت ہے۔
اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو جانوروں پرظلم کرے گا آخرت میں اس سے اس کا بھی بدلہ لیاجائے گا۔
حافظ ؒ نے ابن رشید ؒ سے حدیث اورباب میں مطابقت یوں نقل کی ہے کہ آپ ﷺ کی مناجات اورمہربانی کی درخواست عین نماز کے اندر مذکور ہے تو معلوم ہوا کہ نماز میں ہرقسم کی دعا کرنا درست ہے۔
بشرطیکہ وہ دعائیں شرعی حدوں میں ہوں۔
اس حدیث سے متعلقہ فوائد کتاب الکسوف اور کتاب بدء الخلق میں بیان ہوں گے۔