حدیث نمبر: 1495
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ وَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ كُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَهُ , قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ ( گرہن کی ) نماز پڑھی ، آپ نے ان میں بلند آواز سے قرآت کی ، آپ جب جب رکوع سے سر اٹھاتے تو «سمع اللہ لمن حمده ، ربنا ولك الحمد» کہتے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الكسوف / حدیث: 1495
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الکسوف 19 (1065)، صحیح مسلم/الکسوف 1 (901)، سنن ابی داود/الصلاة 264 (1190)، (تحفة الأشراف: 16528)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1498 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´سورج گرہن کی نماز میں بلند آواز سے قرأت کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ (گرہن کی) نماز پڑھی، آپ نے ان میں بلند آواز سے قرآت کی، آپ جب جب رکوع سے سر اٹھاتے تو «سمع اللہ لمن حمده، ربنا ولك الحمد» کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1495]
1495۔ اردو حاشیہ: گویا دونوں رکوعوں سے اٹھتے وقت سمع اللہ لمن حمدہ۔۔۔ ہی کہنا ہے۔ امام شافعی سے پہلے رکوع کے بعد اللہ اکبر منقول ہے مگر یہ درست نہیں۔ صریح روایت کے مقابلے میں قیاس معتبر نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1495 سے ماخوذ ہے۔