سنن نسائي
كتاب الكسوف— کتاب: (چاند، سورج) گرہن کے احکام و مسائل
بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ باب: سورج گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قال : حَدَّثَنِي أَبِي السَّائِبُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ ، قال : " انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقَامَ الَّذِينَ مَعَهُ ، فَقَامَ قِيَامًا فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَجَلَسَ فَأَطَالَ الْجُلُوسَ ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَامَ فَصَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ مَا صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الْقِيَامِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالْجُلُوسِ ، فَجَعَلَ يَنْفُخُ فِي آخِرِ سُجُودِهِ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَيَبْكِي وَيَقُولُ : " لَمْ تَعِدْنِي هَذَا وَأَنَا فِيهِمْ لَمْ تَعِدْنِي هَذَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُكَ " , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفَ أَحَدِهِمَا فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ أُدْنِيَتِ الْجَنَّةُ مِنِّي حَتَّى لَوْ بَسَطْتُ يَدِي لَتَعَاطَيْتُ مِنْ قُطُوفِهَا ، وَلَقَدْ أُدْنِيَتِ النَّارُ مِنِّي حَتَّى لَقَدْ جَعَلْتُ أَتَّقِيهَا خَشْيَةَ أَنْ تَغْشَاكُمْ ، حَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً مِنْ حِمْيَرَ تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا فَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ , فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ سَقَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُهَا تَنْهَشُهَا إِذَا أَقْبَلَتْ وَإِذَا وَلَّتْ تَنْهَشُ أَلْيَتَهَا ، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ أَخَا بَنِي الدَّعْدَاعِ يُدْفَعُ بِعَصًا ذَاتِ شُعْبَتَيْنِ فِي النَّارِ ، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ الَّذِي كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ مُتَّكِئًا عَلَى مِحْجَنِهِ فِي النَّارِ يَقُولُ : أَنَا سَارِقُ الْمِحْجَنِ " .
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، اور وہ لوگ بھی کھڑے ہوئے جو آپ کے ساتھ تھے ، آپ لمبا قیام کیا ، پھر لمبا رکوع کیا ، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا ، اور لمبا سجدہ کیا ، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھایا ، اور بیٹھے تو دیر تک بیٹھے رہے ، پھر آپ سجدہ میں گئے تو لمبا سجدہ کیا ، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھایا ، اور کھڑے ہو گئے ، پھر آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح قیام ، رکوع ، سجدہ اور جلوس کیا جیسے پہلی رکعت میں کیا تھا ، پھر دوسری رکعت کے آخری سجدے میں آپ ہانپنے اور رونے لگے ، آپ کہہ رہے تھے : ” تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا ۱؎ ، اور حال یہ ہے کہ میں ان میں موجود ہوں ، تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا ، اور ہم تجھ سے ( اپنے گناہوں کی ) بخشش چاہتے ہیں “ ، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تب سورج صاف ہو چکا تھا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اور آپ نے لوگوں کو خطاب کیا ، پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : ” سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، تو جب تم ان میں سے کسی کو گرہن لگا دیکھو تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ، جنت مجھ سے قریب کر دی گئی یہاں تک کہ اگر میں اپنے ہاتھوں کو پھیلاتا تو میں اس کے کچھ گچھے لے لیتا ، اور جہنم مجھ سے قریب کر دی گئی یہاں تک کہ میں اس سے بچاؤ کرنے لگا ، اس خوف سے کہ کہیں وہ تمہیں ڈھانپ نہ لے ، یہاں تک کہ میں نے اس میں حمیر کی ایک عورت پر ایک بلی کی وجہ سے عذاب ہوتے ہوئے دیکھا جسے اس نے باندھ رکھا تھا ، نہ تو اس نے اسے زمین کے کیڑے مکوڑے کھانے کے لیے چھوڑا ، اور نہ ہی اس نے اسے خود کچھ کھلایا پلایا یہاں تک کہ وہ مر گئی ، میں نے اسے دیکھا وہ اس عورت کو نوچتی تھی جب وہ سامنے آتی ، اور جب وہ پیٹھ پھیر کر جاتی تو اس کے سرین کو نوچتی ، نیز میں نے اس میں دو چمڑے کی جوتیوں والے کو دیکھا ، جو قبیلہ بنی دعدع کا ایک فرد تھا ، اسے دو منہ والی لکڑی سے مار کر آگ میں دھکیلا جا رہا تھا ، نیز میں نے اس میں خمدار سر والی لکڑی چرانے والے کو دیکھا ، جو حاجیوں کا مال چراتا تھا ، وہ جہنم میں اپنی لکڑی پر ٹیک لگائے ہوئے کہہ رہا تھا : میں خمدار سر والی لکڑی چرانے والا ہوں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، اور وہ لوگ بھی کھڑے ہوئے جو آپ کے ساتھ تھے، آپ لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھایا، اور بیٹھے تو دیر تک بیٹھے رہے، پھر آپ سجدہ میں گئے تو لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھایا، اور کھڑے ہو گئے، پھر آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح قیام، رکوع، سجدہ اور جلوس کیا جیسے پہلی رکعت میں کیا تھا، پھر دوسری رکعت کے آخری سجدے میں آپ ہانپنے اور رونے لگے، آپ کہہ رہے تھے: ” تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا ۱؎، اور حال یہ ہے کہ میں ان میں موجود ہوں، تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا، اور ہم تجھ سے (اپنے گناہوں کی) بخشش چاہتے ہیں “، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تب سورج صاف ہو چکا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور آپ نے لوگوں کو خطاب کیا، پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ” سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، تو جب تم ان میں سے کسی کو گرہن لگا دیکھو تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، جنت مجھ سے قریب کر دی گئی یہاں تک کہ اگر میں اپنے ہاتھوں کو پھیلاتا تو میں اس کے کچھ گچھے لے لیتا، اور جہنم مجھ سے قریب کر دی گئی یہاں تک کہ میں اس سے بچاؤ کرنے لگا، اس خوف سے کہ کہیں وہ تمہیں ڈھانپ نہ لے، یہاں تک کہ میں نے اس میں حمیر کی ایک عورت پر ایک بلی کی وجہ سے عذاب ہوتے ہوئے دیکھا جسے اس نے باندھ رکھا تھا، نہ تو اس نے اسے زمین کے کیڑے مکوڑے کھانے کے لیے چھوڑا، اور نہ ہی اس نے اسے خود کچھ کھلایا پلایا یہاں تک کہ وہ مر گئی، میں نے اسے دیکھا وہ اس عورت کو نوچتی تھی جب وہ سامنے آتی، اور جب وہ پیٹھ پھیر کر جاتی تو اس کے سرین کو نوچتی، نیز میں نے اس میں دو چمڑے کی جوتیوں والے کو دیکھا، جو قبیلہ بنی دعدع کا ایک فرد تھا، اسے دو منہ والی لکڑی سے مار کر آگ میں دھکیلا جا رہا تھا، نیز میں نے اس میں خمدار سر والی لکڑی چرانے والے کو دیکھا، جو حاجیوں کا مال چراتا تھا، وہ جہنم میں اپنی لکڑی پر ٹیک لگائے ہوئے کہہ رہا تھا: میں خمدار سر والی لکڑی چرانے والا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1483]
➋ ’’تیرا مجھ سے وعدہ ہے۔“ اس جملے سے قرآنی آیت: (وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم) (الانفال8: 33) ’’جب تک تو ان میں موجود ہے، اللہ تعالیٰ انہیں عذاب نہیں دے گا۔“ کی طرف اشارہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازکسوف میں جہنم کی آمد کو عذاب کی تمہید خیال فرمایا ہو گا، ورنہ کسوف بذات خود عذاب نہیں۔
➌ ’’خوشے توڑلیتا“ معلوم ہوا حقیقی جنت آپ کو دکھلائی گئی، اسی طرح جہنم بھی۔
➍ ’’چھڑی والا“ اصل لفظ مححن ہے۔ وہ عصا جو آگے سے مڑا ہوا ہو۔
سجدہ میں اس کیفیت کاحصول خوش بختی کی دلیل ہے۔
بعض حضرات کا موقف ہے کہ نماز کسوف میں صرف ان ارکان کو لمبا کیا جائے جن میں تکرار ہے، مثلاً: قیام اور رکوع وغیرہ، لیکن سجدے میں تکرار نہیں ہوتا، لہذا اسے لمبا نہیں کرنا چاہیے، نیز قیام و رکوع میں تو سورج کے صحیح ہونے کو دیکھا جا سکتا ہے لیکن سجدے میں یہ ممکن نہیں۔
اس کے علاوہ سجدے کی حالت میں جوڑ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں، اس لیے اسے طویل نہیں کرنا چاہیے۔
امام بخاری ؒ نے اس موقف سے اختلاف کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ نماز کسوف میں قیام و رکوع کی طرح سجدہ بھی لمبا کرنا چاہیے۔
جیسا کہ روایات میں صراحت کے ساتھ آیا ہے۔
صریح نص کے مقابلے میں قیاس وغیرہ کی کوئی حیثیت نہیں۔
صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رکوع کی طرح اپنے سجدوں کو بھی طویل کیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ نماز کسوف میں جملہ ارکان کو لمبا کرنا چاہیے۔
(فتح الباري: 695/2)
(1)
گرہن کی نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے نہ اقامت، تاہم عمومی طور پر اعلان کرنا مشروع ہے تاکہ لوگوں کو اطلاع ہو جائے، پھر اسے خاص اہتمام کے ساتھ باجماعت ادا کیا جائے۔
سورج گرہن کے وقت پر ہر شخص متنبہ نہیں ہو سکتا، اس لیے ابتدائی طور پر لوگوں کو اطلاع دینے میں چنداں حرج نہیں۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ نے حضرت عائشہ ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے باقاعدہ ایک اعلان کرنے والے کو تعینات کیا کہ وہ مدینے کے گلی کوچوں میں اس کا اعلان کرے۔
ابن دقیق العید ؒ نے لکھا ہے کہ یہ حدیث اس اعلان کے استحباب پر کھلی دلیل ہے۔
(فتح الباري: 687/2)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکوع کیے، اور دو سجدے کیے، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور دو رکوع اور دو سجدے کیے، پھر سورج سے گرہن چھٹ گیا۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی سجدہ اور کوئی رکوع ان سے لمبا نہیں کیا۔ علی بن مبارک نے معاویہ بن سلام کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1481]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا، تو آپ نے (نماز کا) حکم دیا تو «الصلاة جامعة» (نماز باجماعت پڑھی جائے گی) کی منادی کرائی گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی (پہلی رکعت میں) آپ نے دو رکوع اور ایک سجدہ کیا ۱؎، پھر آپ کھڑے ہوئے، پھر آپ نے (دوسری رکعت میں بھی) دو رکوع اور ایک سجدہ کیا۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کبھی اتنا لمبا رکوع نہیں کیا، اور نہ ہی کبھی اتنا لمبا سجدہ کیا۔ محمد بن حمیر نے مروان کی مخالفت کی ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1480]