حدیث نمبر: 1478
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قال : أَنْبَأَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كُسُوفٍ فِي صُفَّةِ زَمْزَمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز میں زمزم کے چبوترے پر چار چار رکوع اور چار چار سجدے کئے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الكسوف / حدیث: 1478
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون ذكر الصفة فإنه شاذ مخالف لكل الروايات السابقة واللاحقة , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الکسوف 18 (1064) بلفظ ’’أربع رکعات فی سجدتین‘‘ بدون ذکر الصفة (شاذ) (آپ صلی الله علیہ وسلم نے زندگی میں صرف ایک بار وہ بھی مدینہ میں سورج گرہن کی صلاة پڑھی ہے، یہ روایت شاذ ہے، کسی راوی سے وہم ہو گیا ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´سورج گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز میں زمزم کے چبوترے پر چار چار رکوع اور چار چار سجدے کئے۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1478]
1478۔ اردو حاشیہ: اس حدیث میں ’’زم زم" کا ذکر کسی راوی کا وہم ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کسوف مدینہ منورہ ہی میں ثابت ہے اور محقق قول کے مطابق وہ بھی صرف ایک دفعہ، لہٰذا یہ لفظ لازماً راوی کا وہم ہے۔ واللہ اعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرۃ العقبٰی شرح سنن النسائی: 16؍424، 425، وصحیح سنن النسائی للالبانی، رقم: 1476)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1478 سے ماخوذ ہے۔