حدیث نمبر: 1416
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قال : " جَالَسْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْتُهُ يَخْطُبُ إِلَّا قَائِمًا وَيَجْلِسُ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ الْخُطْبَةَ الْآخِرَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم نشینی کی ، تو میں نے آپ کو کھڑے ہو کر ہی خطبہ دیتے دیکھا ، آپ بیچ میں بیٹھتے ، پھر کھڑے ہوتے ، اور دوسرا خطبہ دیتے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجمعة / حدیث: 1416
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2177)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة 10 (762)، سنن ابی داود/الصلاة 228 (1093)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 85 (1105) ، مسند احمد 5/87، 88، 89، 90، 91، 92، 93، 94، 95، 97، 98، 99، 100، 101، 102، 107، سنن الدارمی/الصلاة 199 (1598) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´جمعہ کے دن کتنے خطبے دے؟`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم نشینی کی، تو میں نے آپ کو کھڑے ہو کر ہی خطبہ دیتے دیکھا، آپ بیچ میں بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور دوسرا خطبہ دیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1416]
1416۔ اردو حاشیہ: ➊ جمعہ میں دو خطبے مسنون ہیں اور یہ متفقہ بات ہے۔ بعض نے عیدین کو بھی جمعے پر قیاس کیا ہے لیکن راجح بات یہی ہے کہ عیدین کا ایک ہی خطبہ ہے، عام روایات سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔ دو خطبوں کی روایات ضعیف ہیں، نیز احادیث کے عموم کی روشنی میں عیدین کا جمعے پر قیاس درست نہیں۔ واللہ أعلم۔
➋ ثابت ہوا کہ خطبہ کھڑے ہو کر دینا سنت ہے۔ کسی شرعی عذر کے بغیر بیٹھ کر خطبہ دینا درست نہیں۔
➌ دو خطبوں کے درمیان بیٹھنا مسنون ہے جیسا کہ آئندہ حدیث میں آ رہا ہے۔
➍ خطبہ مختصر ہونا چاہیے جیسے کہ پیچھے گزرا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1416 سے ماخوذ ہے۔