سنن نسائي
كتاب الجمعة— کتاب: جمعہ کے فضائل و مسائل
بَابُ : نُزُولِ الإِمَامِ عَنِ الْمِنْبَرِ، قَبْلَ فَرَاغِهِ مِنَ الْخُطْبَةِ وَقَطْعِهِ كَلاَمَهُ وَرُجُوعِهِ إِلَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ باب: جمعہ کے دن خطبہ کے خاتمہ سے پہلے امام کے منبر سے اترنے اور خطبہ سے رک جانے پھر دوبارہ منبر کی طرف لوٹنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قال : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَجَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , وَعَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ فِيهِمَا ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَ كَلَامَهُ , فَحَمَلَهُمَا ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ ، ثُمَّ قَالَ : " صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15 , رَأَيْتُ هَذَيْنِ يَعْثُرَانِ فِي قَمِيصَيْهِمَا ، فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ كَلَامِي فَحَمَلْتُهُمَا " .
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہم لال رنگ کی قمیص پہنے گرتے پڑتے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( منبر سے ) اتر پڑے ، اور اپنی بات بیچ ہی میں کاٹ دی ، اور ان دونوں کو گود میں اٹھا لیا ، پھر منبر پر واپس آ گئے ، پھر فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے سچ کہا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ” تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں “ میں نے ان دونوں کو ان کی قمیصوں میں گرتے پڑتے آتے دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا یہاں تک کہ میں نے اپنی گفتگو بیچ ہی میں کاٹ دی ، اور ان دونوں کو اٹھا لیا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہم لال رنگ کی قمیص پہنے گرتے پڑتے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (منبر سے) اتر پڑے، اور اپنی بات بیچ ہی میں کاٹ دی، اور ان دونوں کو گود میں اٹھا لیا، پھر منبر پر واپس آ گئے، پھر فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے سچ کہا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ” تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں “ میں نے ان دونوں کو ان کی قمیصوں میں گرتے پڑتے آتے دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا یہاں تک کہ میں نے اپنی گفتگو بیچ ہی میں کاٹ دی، اور ان دونوں کو اٹھا لیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1414]
➋ کسی شدید ضرورت کے پیش نظر خطبے کا تسلسل توڑ دینا، منبر سے اترنا، موضوع سے ہٹ کر کوئی اور بات کر لینا اور پھر جہاں سے چھوڑا وہیں سے خطبہ شروع کر لینا جائز ہے۔
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران حسن اور حسین رضی اللہ عنہم سرخ قمیص پہنے گرتے پڑتے آتے دکھائی دیے، آپ منبر سے اتر پڑے، اور ان دونوں کو اٹھا لیا، اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے: «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ” تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں “ میں نے ان دونوں کو ان کی قمیصوں میں گرتے پڑتے آتے دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا یہاں تک کہ میں منبر سے اتر گیا، اور میں نے ان کو اٹھا لیا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1586]
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین رضی الله عنہما دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے، آپ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا، اور ان کو لا کر اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ۱؎ ” تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہیں کر سکا، یہاں تک کہ اپنی بات روک کر میں نے انہیں اٹھا لیا “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3774]
وضاحت:
1؎:
(التغابن:15)
2؎:
جہاں یہ بچوں کے ساتھ آپﷺ کے کمال شفقت کی دلیل ہے، وہیں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے آپﷺ کے نزدیک مقام و مرتبہ کی بھی بات ہے۔
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے، اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دونوں لال قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر سے اتر پڑے، انہیں اٹھا لیا اور لے کر منبر پر چڑھ گئے پھر فرمایا: ”اللہ نے سچ فرمایا ہے: «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» (التغابن: ۱۵) ”تمہارے مال اور اولاد آزمائش ہیں“ میں نے ان دونوں کو دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا“، پھر آپ نے دوبارہ خطبہ دینا شروع کر دیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1109]
➊ کسی معقول عارضے کی بنا پر اگر خطبے کا تسلسل ٹوٹ جائے یا توڑنا پڑ جائے تو کوئی حرج نہیں۔
➋ حضرا ت حسنین رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہترین نواسے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی راحت جان «ريحانتاي» فرمایا۔ اور جوانان جنت کے سردار ہونے کی بشارت دی ہے۔ ان کے دل نواز تذکرے سے ہم اہل السنۃ والجماعۃ اصحاب الحدیث کے چہرے کھل اٹھتے، سینے ٹھنڈے ہوتے، آنکھیں ادب میں جھک جاتیں اور زبانیں بے ساختہ «رضي الله تعالي عنهم و أرضاهم» پکارنے لگ جاتی ہیں۔ بہت بڑے ظالم ہیں وہ لوگ جو ہمیں ان سے عدم محبت کا طعنہ دیتے ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم محبت کے نام پر انہیں صفات الہٰیہ سے متصف نہیں کرتے کہ انہیں عالم الغیب، مشکل کشا، فریاد رس کہنے لگیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں افراط و تفریط کے شر سے محفوظ رکھے اور آخرت میں ان مقبولان الہٰی اور محبوبان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت سے سرفراز فرمائے۔ «آمين»
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے دیکھا، اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دونوں لال قمیص پہنے ہوئے آ گئے کبھی گرتے تھے کبھی اٹھتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (منبر سے) اترے، دونوں کو اپنی گود میں اٹھا لیا، اور فرمایا: ” اللہ اور اس کے رسول کا قول سچ ہے: «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ” بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں “، میں نے ان دونوں کو دیکھا تو صبر نہ کر سکا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ شروع کر دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3600]
فوائد و مسائل:
(1)
اس حدیث سےمعلوم ہوتا ہے کہ سرخ لباس پہننا جائز ہے۔
ممکن ہے یہ قمیضیں خالص سرخ رنگ کی نہ ہوں۔
(2)
بچوں سے پیار معزز شخصیت کی شان کے خلاف نہیں بلکہ ایک خوبی ہے۔
(3)
خطبے کے دوران میں کسی ضرورت کے تحت منبر سے اترنا جائز ہے۔
(4)
مال اور اولاد کے آزمائش ہونے کا یہ مطلب ہے کہ بہت دفعہ انسان مال اور اولاد کی محبت کی وجہ سے غلط کاموں کا ارتکا ب کر لیتا ہے اس لئے مومن کو احتیاط سے کام لینا چاہیے کہ مال کى طلب میں یا اولاد کی محبت کی وجہ سے کوئی خلاف شریعت کام نہ ہو جائے۔
(5)
خطبے کے دوران میں موضوع سے غیر متعلق بات کرنے میں حرج نہیں بشرطیکہ وہ ضروری بات ہو۔