حدیث نمبر: 1392
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ ، قال : سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ، ثُمَّ نَرْجِعُ وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ فَيْءٌ يُسْتَظَلُّ بِهِ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے ، پھر ہم اس حال میں لوٹتے کہ دیواروں کا سایہ نہ ہوتا جس سے سایہ حاصل کیا جا سکے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی زوال ہوئے ابھی تھوڑا سا وقت گزرا ہوتا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجمعة / حدیث: 1392
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المغازي 35 (4168)، صحیح مسلم/الجمعة 9 (860)، سنن ابی داود/الصلاة 234 (1085)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 84 (1100)، (تحفة الأشراف: 4512) ، مسند احمد 4/46، 50، 54، سنن الدارمی/الصلاة 194 (1587) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´جمعہ کے وقت کا بیان۔`
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم اس حال میں لوٹتے کہ دیواروں کا سایہ نہ ہوتا جس سے سایہ حاصل کیا جا سکے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1392]
1392۔ اردو حاشیہ: اس روایت سے بھی قبل از زوال جمعہ پڑھنے پر استدلال کیا جاتا ہے، حالانکہ اس روایت میں کوئی لفظ اس معنیٰ پر دلالت نہیں کرتا۔ صرف اتنا سمجھ میں آتا ہے کہ جمعہ ختم ہونے تک اتنا سایہ نہیں ہوتا تھا کہ جسم دھوپ سے بچ سکے۔ ظاہر ہے زوال کے بعد جمعہ پڑھنے سے قطعاً اتنا سایہ نہیں بنتا جو جسم کو دھوپ سے بچائے، ہاں اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جمعہ زوال کے بعد جلدی پڑھ لیا جائے اور خطبہ لمبا نہ ہو۔ سخت گرمیوں میں کچھ تاخیر بھی کی جا سکتی ہے جیسے کہ پیچھے گزرا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1392 سے ماخوذ ہے۔