سنن نسائي
كتاب السهو— کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
بَابُ : إِذَا قِيلَ لِلرَّجُلِ هَلْ صَلَّيْتَ هَلْ يَقُولُ لاَ باب: جب کسی آدمی سے پوچھا جائے ”تم نے نماز پڑھی؟“ تو کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ ”نہیں؟“۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَا : حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ , جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ , وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَغْرُبُ , فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَوَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا " , فَنَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ وَتَوَضَّأْنَا لَهَا , فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ " .
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے دن سورج ڈوب جانے کے بعد کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے ، اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نماز نہیں پڑھ سکا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا ، تو رسول اللہ نے فرمایا : ” قسم اللہ کی ! میں نے بھی نہیں پڑھی ہے “ ، چنانچہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی بطحان میں اترے ، پھر آپ نے نماز کے لیے وضو کیا ، اور ہم نے بھی وضو کیا پھر آپ نے سورج ڈوب جانے کے باوجود ( پہلے ) عصر پڑھی ، پھر اس کے بعد مغرب پڑھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے دن سورج ڈوب جانے کے بعد کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نماز نہیں پڑھ سکا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، تو رسول اللہ نے فرمایا: ” قسم اللہ کی! میں نے بھی نہیں پڑھی ہے “، چنانچہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی بطحان میں اترے، پھر آپ نے نماز کے لیے وضو کیا، اور ہم نے بھی وضو کیا پھر آپ نے سورج ڈوب جانے کے باوجود (پہلے) عصر پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1367]
➋ فوت شدہ نمازوں کی جماعت کرانا مشروع ہے، نیز اگر فوت شدہ نمازیں ایک سے زیادہ ہوں تو انہیں ترتیب کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔ واللہ أعلم۔
قسطلانی ؒ نے کہا ممکن ہے کہ اس وقت تک خوف کی نماز کا حکم نہیں اترا ہوگا۔
یا نماز کا آپ کو خیال نہ رہا ہو گا یا خیال ہو گا مگر طہارت کرنے کا موقع نہ ملا ہو گا۔
وقيل: أخرها عمداً؛ لأنه كانت قبل نزول صلاة الخوف، ذهب إليه الجمهور، كما قال ابن رشد، وبه جزم ابن القيم في الهدي، والحافظ في الفتح، والقرطبي في شرح مسلم، وعياض في الشفاء، والزيلعي في نصب الراية، وابن القصار. وهذا هو الراجح عندنا. (مرعاة المفاتیح، ج: 2، ص318)
یعنی کہا گیا (شدت جنگ کی وجہ سے)
آپ ﷺ نے عمدا نماز عصر کو مؤخر فرمایا، اس لیے کہ اس وقت تک صلوۃ خوف کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔
بقول ابن رشد جمہور کا یہی قول ہے اور علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے زاد المعاد میں اس خیال پر جزم کیا ہے اور حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اور قرطبی نے شرح مسلم میں اور قاضی عیاض نے شفاءمیں اور زیلعی نے نصب الرایہ میں اور ابن قصار نے اسی خیال کو ترجیح دی ہے اور حضرت مولانا عبید اللہ صاحب شیخ الحدیث مؤلف مرعاۃ المفاتیح فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک بھی اسی خیال کو ترجیح حاصل ہے۔
(1)
غزوۂ خندق کے موقع پر نماز عصر مؤخر کر دینے کی کئی ایک وجوہات ممکن ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے: ٭ سہو و نسیان کی بنا پر ایسا ہوا کہ نماز پڑھنے کا خیال نہ آیا۔
٭ درج ذیل وجوہات کی بنا پر دانستہ ایسا کیا-
٭ جنگی مصروفیات کی وجہ سے نماز پڑھنے کا موقع نہ مل سکا۔
٭ حالات کی سنگینی کی وجہ سے وضو کا وقت میسر نہ آ سکا۔
٭ نماز خوف کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے۔
امام بخاری ؒ کے نزدیک نماز خوف کے احکام نازل ہو چکے تھے لیکن جنگی مصروفیات کی وجہ سے نماز باجماعت یا الگ الگ پڑھنے کا موقع نہ مل سکا اور نہ اشارے ہی سے پڑھنے کی قدرت تھی، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے نماز عصر کو مؤخر کر دیا۔
(2)
اس سے امام بخاری ؒ نے ثابت کیا ہے کہ جنگی مصروفیات کی وجہ سے اگر نماز باجماعت پڑھنے کی قدرت نہ ہو تو الگ الگ ہر شخص اشارے سے پڑھ لے۔
اگر اشارے سے نماز پڑھنا ممکن نہ ہو تو نماز کو مؤخر کر دیا جائے اور حالات کے سازگار ہونے کا انتظار کیا جائے۔
ایسے حالات میں تسبیح، تحلیل اور تکبیر وغیرہ نماز ادا کرنے کے قائم مقام نہیں ہو گی۔
واللہ أعلم۔
جنھوں نے یہ کہنا مکروہ قرار دیا کہ یوں کہاجائے کہ ہم نے نماز نہیں پڑھی۔
حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے یہ کہنا اس شخص کے لیے مکروہ جانا جو نماز کا انتظار کررہاہو۔
کیونکہ وہ گویا نماز ہی میں ہے۔
(1)
امام بخاری ؒ بعض اوقات ایک ایسا عنوان قائم کرتے ہیں جس کا بظاہر کوئی فائدہ معلوم نہیں ہوتا جیسا کہ اس عنوان کے متعلق کہا جاتا ہے لیکن جب غور کیا جاتا ہے تو اس کی اہمیت کا پتا چلتا ہے۔
قبل ازیں حضرت ابن سیرین ؒ کے متعلق امام بخاری ؒ نے بیان کیا تھا کہ وہ ان الفاظ کو ناپسند کرتے ہیں کہ’’ہماری نماز رہ گئی۔
‘‘ اسی طرح امام ابراہیم نخی ؒ کہتے ہیں کہ’’ہم نے نماز نہیں پڑھی‘‘ کہنا مکروہ ہے کیونکہ یہ ایک قسم کی بے اعتنائی ہے۔
امام بخاری ؒ نے اس موقف کی تردید فرمائی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ بوقت ضرورت ایسے الفاظ ادا کرنے میں چند حرج نہیں۔
اگرچہ مذکورہ روایت کے مطابق حضرت عمر ؓ نے یہ الفاظ استعمال نہیں فرمائے، لیکن ان کا مقولہ مفہوم اور نتیجے کے اعتبار سے (ما صليت)
’’میں نے نماز نہیں پڑھی‘‘ ہی کے معنی دے رہا ہے۔
دراصل امام بخاری ؒ کا محل استدلال ایک دوسری روایت کے الفاظ ہیں جس میں وضاحت کے ساتھ حضرت عمر ؓ نے (ما صليت)
کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔
(صحیح البخاري، صلاة الخوف، حدیث: 945)
مذکورہ روایت میں بھی رسول اللہ ﷺ نے (ما صليت)
کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔
(2)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ شرح تراجم بخاری میں لکھتے ہیں کہ امام بخارى ؒ اللہ اس سے تہذیب الفاظ کا سبق دینا چاہتے ہیں لیکن اگر استدلال رسول اللہ ﷺ کے ارشاد (والله ما صليتها)
سے ہوتا تو زیادہ مناسب تھا۔
علامہ ابن بطال ؒ نے حضرت امام نخعی ؒ کے متعلق لکھا ہے کہ آپ نے اس قسم کے الفاظ اس شخص کے لیے مکروہ خیال کیے ہیں جو نماز کے انتظار میں ہو کیونکہ حدیث کے مطابق نماز کا انتظار کرنے والا نماز ہی میں ہوتا ہے، اس لیے اسے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میں نے نماز نہیں پڑھی، کیونکہ اس سے ایک ایسی چیز کا انکار لازم آتا ہے جسے شریعت نے ثابت کیا ہے۔
(شرح ابن بطال: 267/1)
ممکن ہے کہ امام بخاری ؒ ایسے الفاظ کا استعمال اس شخص کے لیے جائز قرر یتے ہوں جو بھول کر نماز چھوڑ بیٹھا ہو یا کسی ہنگامی اور جنگی حالات کی وجہ سے نماز نہ پڑھ سکا ہو، وہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے نماز نہیں پڑھی۔
امام ابراہیم نخعی ؒ بھی علي الاطلاق اس کی کراہت کے قائل نہیں ہیں۔
والله أعلم.
اس حدیث کی شرح (596) میں ملاحظہ فرمائیں۔ بظاہر اس باب کا کوئی فائدہ معلوم نہیں ہوتا مگر دراصل ایسے ابواب سے امام بخاری کسی شخص کی کسی بات کا رو کر رہے ہوتے ہیں، جیسا کہ اس سے پہلے ابن سیرین کے اس قول کا حدیث کے ساتھ رد کیا تھا کہ ”ہم سے نماز رہ گئی۔“ یہاں فتح الباری میں ابراہیم نخعی کا قول ذکر کیا ہے کہ یہ کہنا مکروہ ہے کہ ہم نے نماز نہیں پڑھی۔ ان کے خیال میں اس سے نماز تے بے امتنائی کا اظہار ہوتا ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ باب میں ہے ”آدمی کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنا“ جب کہ اس حدیث میں کسی آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی (عمر رضی اللہ عنہ) سے کہا: «وَاللهِ! مَا صَلَّيْتُهَا» ”اللہ کی قسم! میں نے بھی نماز نہیں پڑھی۔“ جواب اس کا یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی عادت ہے کہ وہ حدیث کے کسی اور طریق کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں، چنانچہ صحیح بخاری میں اسی حدیث میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ الفاظ کہے: «يَا رَسُولَ اللهِ مَا صَلَّيْتُ الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغِيْبَ» [بخاري: 945] ”یا رسول اللہ! میں نے عصر نہیں پڑھی، یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کے قریب ہو گیا۔“ خلاصہ یہ کہ یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ ہم نے نماز نہیں پڑھی، خصوصاً اس لیے کہ اس حدیث میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ کہے ہیں۔
1۔
صلوۃ وسطیٰ کے متعلق صراحت ہے کہ اس سے مراد نمازِعصر ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو اس نماز کے فوت ہونے کی اس قدر تکلیف تھی کہ آپ نے مشرکین پر بددعا فرمائی۔
(صحیح البخاري، الدعوات، حدیث: 6396)
ایک روایت میں ہے: مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کو ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازوں کی ادائیگی سے مصروف رکھا، چنانچہ آپ نے یہ تمام نمازیں ترتیب کے مطابق یکجا کرکے پڑھیں۔
(سنن النسائي، الأذان، حدیث: 663)
2۔
ان مختلف روایات سے میں تطبیق کی یہ صورت ہے کہ جنگ خندق کا سلسلہ کئی روز تک جاری رہا، کسی دن پانچوں رہ گئیں اور کسی دن نمازِ عصر بروقت نہ پڑھ سکے۔
(شرح نووي: 111/5)