مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1359
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , وَذَكَرَ آخَرَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : كُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : نَعَمْ , كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ , فَيَتَحَدَّثُ أَصْحَابُهُ يَذْكُرُونَ حَدِيثَ الْجَاهِلِيَّةِ , وَيُنْشِدُونَ الشِّعْرَ , وَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سماک بن حرب کہتے ہیں کہ` میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ( پھر انہوں نے بیان کیا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر پڑھ لیتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا ، پھر آپ کے صحابہ آپ سے میں بات چیت کرتے ، جاہلیت کے دور کا ذکر کرتے ، اور اشعار پڑھتے ، اور ہنستے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکراتے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب السهو / حدیث: 1359
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 670 | صحيح مسلم: 2322 | سنن ترمذي: 2850

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´سلام کے بعد امام کا اپنے مصلی پر بیٹھے رہنے کا بیان۔`
سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں (پھر انہوں نے بیان کیا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر پڑھ لیتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا، پھر آپ کے صحابہ آپ سے میں بات چیت کرتے، جاہلیت کے دور کا ذکر کرتے، اور اشعار پڑھتے، اور ہنستے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکراتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1359]
1359۔ اردو حاشیہ: نماز کے بعد مسنون ذکر اذکار کے لیے بیٹھنا تو متفق علیہ چیز ہے۔ امام کو دوسروں کی نسبت زیادہ پابندی کرنی چاہیے۔ ذکر اذکار کے علاوہ جن نمازوں کے بعد مؤکدہ سنتیں نہیں، مثلاً: فجر اور عصر تو مناسب ہے کہ امام بیٹھا رہے تاکہ لوگ اپنے مسائل پیش کریں۔ اس طرح عوام الناس سے امام کا رابطہ قائم ہو گا۔ معلومات عامہ سے واقفیت رہے گی۔ لوگوں کے ساتھ خوش طبعی کے ساتھ میل جول رکھنا بھی نیکی ہے۔ فرض نماز کے بعد ذکر اذکار مؤکدہ سنتوں سے پہلے پڑھنے چاہئیں۔ عام احادیث سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ باقی رہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث کہ آپ سلام کے بعد صرف «اللَّهمَّ أنتَ السَّلامُ……… الخ» والی دعا پڑھنے کے برابر ہی بیٹھتے تھے تو اس سے مراد قبلہ رخ بیٹھنا ہے نہ کہ مطلقاً، یعنی اتنی دیر آپ قبلہ رخ بیٹھتے، پھر مقتدیوں کی طرف متوجہ ہو جاتے۔ صحابہ آپ کے پاس ایسے شعر ہی پڑھتے ہوں گے جو شاعرانہ یاوہ گوئی سے پاک ہوں گے۔ اچھے اشعار تھوڑی مقدار میں باقاعدہ مجلس قائم کیے بغیر پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، البتہ مساجد میں باقاعدہ شعر گوئی کی مجالس منعقد کرنا درست نہیں۔ شعروں سے زیادہ دلچسپی قرآن مجید سے دور کرتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1359 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2322 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
سماک بن حرب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں، میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا، کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے، انہوں نے کہا، ہاں، بہت دفعہ، آپ جس جگہ صبح کی نماز پڑھاتے، وہاں سے سورج نکلنے تک نہ اٹھتے، جب سورج طلوع ہو جاتا تو اٹھتے، صحابہ کرام باتیں کرتے رہتے حتی کہ جاہلیت کے دور کے کاموں کا ذکر چھیڑ لیتے اور ہنستے اور رسول اللہ ﷺ تبسم فرماتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6035]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، صبح کی نماز کے بعد، سورج نکلنے تک اپنی جگہ بیٹھ کر ذکر و اذکار اور تلاوت کرنا ایک پسندیدہ عمل ہے اور عبرت پذیری و سبق آموزی کے لیے دور جاہلیت کے واقعات بیان کیے جا سکتے ہیں اور ہنسنے کے موقعہ پر ہنسنا جائز ہے اور بہتر یہ ہے کہ انسان تبسم پر کفایت کرے، یعنی مسکرائے اور آواز پیدا نہ ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر مسکراتے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2322 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 670 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
سماک بن حرب بیان کرتے ہیں، میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا کرتے تھے؟ اس نے کہا، ہاں، بکثرت (بہت) آپﷺ جس جگہ صبح کی نماز پڑھتے تھے، سورج نکلنے تک اس جگہ تشریف رکھتے جب سورج نکل آتا تو پھر آپ اٹھتے اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم باہمی گفتگو کرتے، جاہلیت کے دور کی باتیں شروع ہو جاتیں تو وہ ہستے بھی اور آپﷺ بھی مسکراتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1525]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک مسجد میں ذکر واذاکار اور تلاوت کے لیے بیٹھے رہنا اجرو ثواب کا باعث ہے اور پندو موعظت یا عبرت پذیری کے لیے اسلام سے قبل کے واقعات یا دوسرے تاریخی واقعات سننا اور سنانا جائز ہے اور مسجد کے تقدس واحترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے ضرورت کے وقت اس میں ہنسنا اور مسکرانا بھی جائز ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 670 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔