سنن نسائي
كتاب السهو— کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ باب: دعا کی ایک اور قسم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَتَّابٌ هُوَ ابْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ , وَمُجَاهِدٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ الْأَغْنِيَاءَ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي , وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ , وَلَهُمْ أَمْوَالٌ يَتَصَدَّقُونَ وَيُنْفِقُونَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّيْتُمْ , فَقُولُوا : سُبْحَانَ اللَّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَشْرًا , فَإِنَّكُمْ تُدْرِكُونَ بِذَلِكَ مَنْ سَبَقَكُمْ وَتَسْبِقُونَ مَنْ بَعْدَكُمْ " .
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ فقراء نے آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! مالدار لوگ ( بھی ) نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں ، وہ بھی روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں ، ان کے پاس مال ہے وہ صدقہ و خیرات کرتے ہیں ، اور ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرتے ہیں ، ( اور ہم نہیں کر پاتے ہیں تو ہم ان کے برابر کیسے ہو سکتے ہیں ) یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم لوگ نماز پڑھ چکو تو تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور تینتیس بار «اللہ أكبر» اور دس بار «لا إله إلا اللہ» کہو ، تو تم اس کے ذریعہ سے ان لوگوں کو پا لو گے جو تم سے سبقت کر گئے ہیں ، اور اپنے بعد والوں سے سبقت کر جاؤ گے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ فقراء نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مالدار لوگ (بھی) نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں، وہ بھی روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، ان کے پاس مال ہے وہ صدقہ و خیرات کرتے ہیں، اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں، (اور ہم نہیں کر پاتے ہیں تو ہم ان کے برابر کیسے ہو سکتے ہیں) یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب تم لوگ نماز پڑھ چکو تو تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور تینتیس بار «اللہ أكبر» اور دس بار «لا إله إلا اللہ» کہو، تو تم اس کے ذریعہ سے ان لوگوں کو پا لو گے جو تم سے سبقت کر گئے ہیں، اور اپنے بعد والوں سے سبقت کر جاؤ گے۔" [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1354]
➋ غنی اور فقر اگرچہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہیں مگر مالدار کو اپنا مال خرچ کرنے کا ثواب تو ملے گا جس سے فقیر شخص خرچ نہ کرنے کی وجہ سے محروم رہے گا جیسے لنگڑا اگرچہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہے مگر وہ بہت سارے ان مفادات ومنافع سے محروم رہتا ہے جن سے دو ٹانگوں والے بہرہ ور ہوتے ہیں اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اس اعتبار سے یہ روایت معنا صحیح ہے، البتہ اس روایت میں دس مرتبہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» والے الفاظ کا اضافہ منکر ہے۔
➌ بلندیٔ درجات کے لیے نیک اعمال میں مقابلہ کرنا جائز ہے۔
➍ کسی پر اللہ کے انعامات دیکھ کر رشک کرنا اور اس جیسی نعمتوں کی خواہش کرنا درست ہے۔
➎ کبھی چھوٹے سے عمل کی بنا پر بہت بڑے عمل کی فضیلت اور ثواب حاصل ہو جاتا ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس کچھ فقیر و محتاج لوگ آئے اور کہا: اللہ کے رسول! مالدار نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں وہ روزہ رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں۔ ان کے پاس مال بھی ہے، اس سے وہ غلام آزاد کرتے اور صدقہ دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: " جب تم نماز پڑھ چکو تو تینتیس مرتبہ " سبحان اللہ "، تینتیس مرتبہ " الحمد لله " اور تینتیس مرتبہ " الله أكبر " اور دس مرتبہ " لا إله إلا الله " کہہ لیا کرو، تو تم ان لوگوں کو پا لو گے جو تم پر سبقت لے گئے ہیں، اور جو تم سے پیچھے ہیں وہ تم پر سبقت نہ لے جا سکیں گے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 410]
نوٹ:
(دس بار’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ‘‘ کا ذکر منکر ہے، منکر ہو نے کا سبب خصیف ہیں جو حافظے کے کمزور اور مختلط راوی ہیں، آخر میں ایک بار ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ‘‘ کے ذکر کے ساتھ یہ حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے صحیح بخاری میں مروی ہے)