سنن نسائي
كتاب السهو— کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَاءِ عِنْدَ الاِنْصِرَافِ مِنَ الصَّلاَةِ باب: نماز سے سلام پھیر کر پلٹنے پر ایک اور دعا کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ كَعْبًا حَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ الَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ لِمُوسَى إِنَّا لَنَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ ، أَنَّ دَاوُدَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ , قَالَ : اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةً , وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي , اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ , وَأَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ نِقْمَتِكَ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ , لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ , وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " قَالَ : وَحَدَّثَنِي كَعْبٌ , أَنَّ صُهَيْبًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُهُنَّ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنْ صَلَاتِهِ .
´ابومروان روایت کرتے ہیں کہ` کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے اس اللہ کی قسم کھا کر کہا جس نے موسیٰ کے لیے سمندر پھاڑا کہ ہم لوگ تورات میں پاتے ہیں کہ اللہ کے نبی داود علیہ السلام جب اپنی نماز سے سلام پھیر کر پلٹتے تو کہتی : «اللہم أصلح لي ديني الذي جعلته لي عصمة وأصلح لي دنياى التي جعلت فيها معاشي اللہم إني أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بعفوك من نقمتك وأعوذ بك منك لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ” اے اللہ ! میرے لیے میرے دین کو درست فرما دے جسے تو نے میرے لیے بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے ، اور میرے لیے میری دنیا درست فرما دے جس میں میری روزی ہے ، اے اللہ ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں ، اور تیرے عذاب سے تیرے عفو و درگزر کی پناہ چاہتا ہوں ، اور میں تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، نہیں ہے کوئی روکنے والا اس کو جو تو دیدے ، اور نہ ہی ہے کوئی دینے والا اسے جسے تو روک لے ، اور نہ مالدار کو اس کی مالداری بچا پائے گی ۔ ابومروان کہتے ہیں : اور کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ صہیب رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کو نماز سے سلام پھیر کر پلٹنے پر کہا کرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابومروان روایت کرتے ہیں کہ کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے اس اللہ کی قسم کھا کر کہا جس نے موسیٰ کے لیے سمندر پھاڑا کہ ہم لوگ تورات میں پاتے ہیں کہ اللہ کے نبی داود علیہ السلام جب اپنی نماز سے سلام پھیر کر پلٹتے تو کہتی: «اللہم أصلح لي ديني الذي جعلته لي عصمة وأصلح لي دنياى التي جعلت فيها معاشي اللہم إني أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بعفوك من نقمتك وأعوذ بك منك لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» " اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست فرما دے جسے تو نے میرے لیے بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے، اور میرے لیے میری دنیا درست فرما دے جس میں میری روزی ہے، اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں، اور تیرے عذاب سے تیرے عفو و درگزر کی پناہ چاہتا ہوں، اور میں تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں، نہیں ہے کوئی روکنے والا اس کو جو تو دیدے، اور نہ ہی ہے کوئی دینے والا اسے جسے تو روک لے، اور نہ مالدار کو اس کی مالداری بچا پائے گی۔ ابومروان کہتے ہیں: اور کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ صہیب رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کو نماز سے سلام پھیر کر پلٹنے پر کہا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1347]
➋ اس حدیث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ داود علیہ السلام کی شریعت میں بھی نماز مشروع تھی۔
➌ "دین" انسان کے لیے بچاؤ کا ذریعہ ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت کی تمام مکروہات سے بچاتا ہے، لہٰذا بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کے سامنے آہ و زاری کرتا رہے اور اپنے دین کی درستی کے لیے دعا مانگتا رہے۔
➍ دنیا انسان کے زندگی گزارنے کا سبب ہے اور پاکیزہ معاش انسان کو جنت میں لے جانے کا سبب ہے، اس لیے اپنی دنیا کی اصلاح کے لیے بھی دعا کرتے رہنا چاہیے۔