سنن نسائي
كتاب السهو— کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الذِّكْرِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ باب: سلام پھیرنے کے بعد ایک اور دعا کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : وَكَانَ مِنَ الْخَائِفِينَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا جَلَسَ مَجْلِسًا أَوْ صَلَّى تَكَلَّمَ بِكَلِمَاتٍ , فَسَأَلَتْهُ عَائِشَةُ عَنِ الْكَلِمَاتِ , فَقَالَ : " إِنْ تَكَلَّمَ بِخَيْرٍ كَانَ طَابِعًا عَلَيْهِنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ , وَإِنْ تَكَلَّمَ بِغَيْرِ ذَلِكَ كَانَ كَفَّارَةً لَهُ , سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " .
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو کچھ کلمات کہتے ، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے ان کلمات کے بارے میں پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اس نے کوئی بھلی بات کی ہو گی تو یہ کلمات اس پر قیامت کے دن تک بطور مہر ہوں گے ، اور اگر اس کے علاوہ اس نے کوئی اور بات کی ہو گی تو یہ کلمات اس کے لیے کفارہ ہوں گے ، وہ یہ ہیں : «سبحانك اللہم وبحمدك أستغفرك وأتوب إليك» ” تیری ذات پاک ہے اے اللہ ! اور تیری حمد کے ذریعہ سے میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں ، اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو کچھ کلمات کہتے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے ان کلمات کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اگر اس نے کوئی بھلی بات کی ہو گی تو یہ کلمات اس پر قیامت کے دن تک بطور مہر ہوں گے، اور اگر اس کے علاوہ اس نے کوئی اور بات کی ہو گی تو یہ کلمات اس کے لیے کفارہ ہوں گے، وہ یہ ہیں: «سبحانك اللہم وبحمدك أستغفرك وأتوب إليك» " تیری ذات پاک ہے اے اللہ! اور تیری حمد کے ذریعہ سے میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں، اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں۔" [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1345]
➋ "مہر بن جائیں گے" یعنی ان اچھی باتوں کے ثواب کوقائم رکھیں گے اور ان کی قبولیت کی ضمانت ہوں گے اور انہیں رد نہیں ہونے دیں گے۔