حدیث نمبر: 1341
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يُهَلِّلُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ , لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ , لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ، ثُمَّ يَقُولُ ابْنُ الزُّبَيْرِ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَلِّلُ بِهِنَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو الزبیر کہتے ہیں کہ` عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم نماز کے بعد تہلیل کرتے اور کہتے : «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير لا إله إلا اللہ ولا نعبد إلا إياه له النعمة وله الفضل وله الثناء الحسن لا إله إلا اللہ مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» ” نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے ، جو تنہا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کی بادشاہت ہے سب پر ، اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے ، اور ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں ، نعمت ، فضل اور بہترین ثنا اسی کے لیے ہے ، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے ، ہم دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والے ہیں ، اگرچہ کافروں کو برا لگے “ پھر ابن زبیر رضی اللہ عنہم کہتے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد انہیں کلمات کے ذریعہ تہلیل کیا کرتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب السهو / حدیث: 1341
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1340 | صحيح مسلم: 594 | سنن ابي داود: 1506

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1340 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سلام پھیرنے کے بعد تہلیل «لا إلٰہ إلا اللہ» کہنے کا بیان۔`
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کو اس منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير لا حول ولا قوة إلا باللہ لا إله إلا اللہ لا نعبد إلا إياه أهل النعمة والفضل والثناء الحسن لا إله إلا اللہ مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» " نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے جو اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، نہیں طاقت و قوت مگر اللہ ہی کی توفیق سے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم صرف اسی نعمت، فضل اور بہترین تعریف والے کی عبادت کرتے ہیں، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والے ہیں، اگرچہ کافروں کو برا لگے۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1340]
1340۔ اردو حاشیہ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» جامع کلمہ ہے۔ حول سے مراد ہر نقصان اور خرابی سے بچنے کی طاقت اور قوۃ سے مراد ہر اچھی چیز حاصل کرنے کی قوت ہے۔ ظاہر ہے ہر چیز ان میں آ جاتی ہے۔ شاید اسی لیے اس کلمے کو جنت کا خزانہ کہا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1340 سے ماخوذ ہے۔