حدیث نمبر: 1337
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ ، عَنْ حُنَيْنِ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ الْمُعَوِّذَاتِ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذتین «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھا کروں ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب السهو / حدیث: 1337
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الصلاة 361 (1523)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 12 (2903)، (تحفة الأشراف: 9940) ، مسند احمد 4/155، 201 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2903 | سنن ابي داود: 1523

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´سلام پھیرنے کے بعد «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھنے کا حکم۔`
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذتین «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھا کروں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1337]
1337۔ اردو حاشیہ: بعض روایات میں "معوذتین" کا ذکر ہے، یعنی قرآن مجید کی آخری دو سورتیں «قُلْ أعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أعُوذُ بِرَبِّ النّاسِ» معوذات کا مطلب ہے کہ یہ کلمات اپنے پڑھنے والے کو ہر شر سے بچاتے ہیں یا ان کے ذریعے اللہ کی پناہ طلب کی جاتی ہے۔ یہ سورتیں بھی اسی لیے نازل ہوئیں کہ لوگوں کے حسد، جادو، شر اور شیطانوں سے ان کے ذریعے سے بچا جائے یا پناہ طلب کی جائے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1337 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1523 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´توبہ و استغفار کا بیان۔`
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات پڑھا کروں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1523]
1523. اردو حاشیہ: جامع ترمذی میں یہ روایت معوذات کی بجائے تثنیہ کے صیغہ سے معوذتین آیا ہے۔ اور ان س مُراد [قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ]
اور [قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ]
ہے۔ اورانھیں اس روایت میں صیغہ جمع کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور ممکن ہے کہ ان کے ساتھ [قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ) اور [قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ]
بھی مُراد ہو۔ کیونکہ یہ سب سورتیں تمام تعوذات کی جامع ہیں۔ سورۃ الکافرون میں شرک سے براءت اور سورۃ الاخلاص میں اظہار واقرار توحید اور معوذتین میں ہر شر سے اللہ کی پناہ لینے کا بیان ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1523 سے ماخوذ ہے۔