سنن نسائي
كتاب السهو— کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
بَابُ : السَّلاَمِ باب: سلام پھیرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1317
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ دَاوُدَ الْهَاشِمِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمِسْوَرِ الْمَخْرَمِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : " يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز میں ) اپنے دائیں اور بائیں سلام پھیرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب السهو / حدیث: 1317
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1318 | صحيح مسلم: 582 | سنن ابن ماجه: 915
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1318 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سلام پھیرنے کا بیان۔`
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تھا کہ آپ اپنے دائیں اور بائیں سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دیکھی جاتی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عبداللہ بن جعفر مخرمی میں کوئی حرج نہیں یعنی قابل قبول راوی ہیں، اور علی بن مدینی کے والد عبداللہ بن جعفر بن نجیح، متروک الحدیث ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1318]
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تھا کہ آپ اپنے دائیں اور بائیں سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دیکھی جاتی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عبداللہ بن جعفر مخرمی میں کوئی حرج نہیں یعنی قابل قبول راوی ہیں، اور علی بن مدینی کے والد عبداللہ بن جعفر بن نجیح، متروک الحدیث ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1318]
1318۔ اردو حاشیہ: ➊ اس حدیث کے راوی عبداللہ بن جعفر مخرمی ہیں جو ثقہ ہیں۔ ایک دوسرے عبداللہ بن جعفر ہیں جو مشہور محدث اور نقاد حضرت علی بن مدینی کے والد محترم ہیں لیکن وہ اپنے کمزور حافظے کی وجہ سے علم حدیث میں قابل اعتبار نہیں۔ چونکہ اشتباہ کا خطرہ تھا، اس لیے امام صاحب نے وضاحت فرمائی۔ جزاہ اللہ خیرا۔
➋ اسلام دونوں جانب کہنا چاہیے۔ کثیر روایات اسی پر دال ہیں۔ لیکن نماز کے آخر میں صرف ایک طرف سلام کہنا بھی جائز ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک طرف سلام کہنا بھی ثابت ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [سلسلة الأحادیث الصحیحة: 628/1، حدیث: 316] جب ایک سلام کہنا ہو تو سامنے کی طرف منہ کر کے سلام کہا جائے، پھر چہرے کو دائیں جانب مائل کر لیں۔ واللہ أعلم۔
➋ اسلام دونوں جانب کہنا چاہیے۔ کثیر روایات اسی پر دال ہیں۔ لیکن نماز کے آخر میں صرف ایک طرف سلام کہنا بھی جائز ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک طرف سلام کہنا بھی ثابت ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [سلسلة الأحادیث الصحیحة: 628/1، حدیث: 316] جب ایک سلام کہنا ہو تو سامنے کی طرف منہ کر کے سلام کہا جائے، پھر چہرے کو دائیں جانب مائل کر لیں۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1318 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 582 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عامر بن سعد رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو اپنے دائیں اور اپنے بائیں سلام پھیرتے دیکھتا تھا، حتیٰ کہ میں آپﷺ کے رخساروں کی سفیدی دیکھتا تھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1315]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: 1۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور جمہور سلف کے نزدیک دونوں طرف سلام پھیرنا چاہیے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سامنے سلام پھیرا جائے گا بعض دفعہ یہ طریقہ اختیار کرنا جائز ہے۔
کیونکہ نماز سے تو انسان ایک ہی سلام سے نکل جاتا ہے۔
2۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اورجمہور سلف کےنزدیک نماز سے نکلنے کے لیے سلام پھیرنا فرض ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی اور احناف کے نزدیک واجب ہے اگر نمازی تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد جان بوجھ کر نماز کے منافی کوئی کام کرے تو نماز ہو جائے گی لیکن سجدہ سہو کرنا پڑے گا۔
لیکن آخر میں اگر بلاقصد و ارادہ اگر کوئی کام نماز کے منافی ہو جائے تو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک نماز باطل ہو گی۔
اور صاحبین کے نزدیک درست ہو گی۔
لیکن علامہ کرخی نے اس قول کی تردید کی ہے تفصیل کے لیے دیکھئے: (شرح صحیح مسلم علامہ سعیدی: ج 2 ص: 178۔
179)
اس کے لیے بلا دلیل یہ قاعدہ بنایا گیا ہے۔
کہ خبر واحد سے یہ وجوب ثابت ہوتا ہے فرضیت نہیں۔
دوسری دلیل عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ضعیف روایت پیش کی جاتی ہے۔
تیسری دلیل ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز، صحیح طریقہ سے نہ پڑھنے والے کو نماز کا طریقہ سکھانا ہے کہ اس میں سلام کا تذکرہ نہیں حالانکہ اس میں صرف ان امور کا تذکرہ ہے جہاں اس نے غلطی کی تھی۔
نماز کے تمام امور کا تذکرہ نہیں ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور جمہور سلف کے نزدیک دونوں طرف سلام پھیرنا چاہیے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سامنے سلام پھیرا جائے گا بعض دفعہ یہ طریقہ اختیار کرنا جائز ہے۔
کیونکہ نماز سے تو انسان ایک ہی سلام سے نکل جاتا ہے۔
2۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اورجمہور سلف کےنزدیک نماز سے نکلنے کے لیے سلام پھیرنا فرض ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی اور احناف کے نزدیک واجب ہے اگر نمازی تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد جان بوجھ کر نماز کے منافی کوئی کام کرے تو نماز ہو جائے گی لیکن سجدہ سہو کرنا پڑے گا۔
لیکن آخر میں اگر بلاقصد و ارادہ اگر کوئی کام نماز کے منافی ہو جائے تو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک نماز باطل ہو گی۔
اور صاحبین کے نزدیک درست ہو گی۔
لیکن علامہ کرخی نے اس قول کی تردید کی ہے تفصیل کے لیے دیکھئے: (شرح صحیح مسلم علامہ سعیدی: ج 2 ص: 178۔
179)
اس کے لیے بلا دلیل یہ قاعدہ بنایا گیا ہے۔
کہ خبر واحد سے یہ وجوب ثابت ہوتا ہے فرضیت نہیں۔
دوسری دلیل عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ضعیف روایت پیش کی جاتی ہے۔
تیسری دلیل ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز، صحیح طریقہ سے نہ پڑھنے والے کو نماز کا طریقہ سکھانا ہے کہ اس میں سلام کا تذکرہ نہیں حالانکہ اس میں صرف ان امور کا تذکرہ ہے جہاں اس نے غلطی کی تھی۔
نماز کے تمام امور کا تذکرہ نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 582 سے ماخوذ ہے۔