حدیث نمبر: 131
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ ذَكَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِإِنَاءٍ صَغِيرٍ فَتَوَضَّأَ . قُلْتُ : أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، قَالَ : فَأَنْتُمْ ؟ قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ مَا لَمْ نُحْدِثْ ، قَالَ : وَقَدْ كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھوٹا سا برتن لایا گیا ، تو آپ نے ( اس سے ) وضو کیا ، عمرو بن عامر کہتے ہیں : میں نے پوچھا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ۱؎ ! اس پر ( عمرو بن عامر ) نے پوچھا : اور آپ لوگ ؟ کہا : ہم لوگ جب تک وضو نہیں توڑتے نماز پڑھتے رہتے تھے ، نیز کہا : ہم لوگ کئی نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی آپ کی عام عادت مبارکہ یہی تھی، اگرچہ کبھی کبھی ایک وضو سے دو اور اس سے زیادہ نمازیں بھی آپ نے پڑھی ہیں، نیز یہ بھی احتمال ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے اپنی معلومات کے مطابق جواب دیا ہو، شاید انہیں اس کا علم نہ رہا ہو کہ آپ نے ایک وضو سے کئی نمازیں بھی پڑھی ہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / صفة الوضوء / حدیث: 131
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الطہارہ 54 (214) مختصراً، سنن ابی داود/الطہارة 66 (171) مختصراً، سنن الترمذی/فیہ 44 (60) مختصراً، سنن ابن ماجہ/فیہ 72 (509) مختصراً، (تحفة الأشراف: 1110)، مسند احمد 3/132، 133، 154، 194، 260، سنن الدارمی/الطہارة 46 (747) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 58

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´ہر نماز کے لیے تازہ وضو کرنے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھوٹا سا برتن لایا گیا، تو آپ نے (اس سے) وضو کیا، عمرو بن عامر کہتے ہیں: میں نے پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں ۱؎! اس پر (عمرو بن عامر) نے پوچھا: اور آپ لوگ؟ کہا: ہم لوگ جب تک وضو نہیں توڑتے نماز پڑھتے رہتے تھے، نیز کہا: ہم لوگ کئی نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 131]
131۔ اردو حاشیہ: نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمیشہ ہر نماز کے لیے نیا وضو نہیں فرمایا کرتے تھے۔ کبھی کبھی آپ سے ایک وضو کے ساتھ زیادہ نمازیں پڑھنا بھی مذکور ہے جیسا کہ آئندہ احادیث میں ہے، یعنی عموماً آپ ثواب اور صفائی کی خاطر وضو فرما لیا کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 131 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 58 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا بیان۔`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے باوضو ہوتے یا بے وضو۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ لوگ کیسے کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم ایک ہی وضو کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 58]
اردو حاشہ:
1؎:
ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں پڑھتے تھے۔

2؎:
بلکہ اکثر اہل علم کی یہی رائے ہے۔

نوٹ:
(محمد بن حمید رازی ضعیف ہیں اور محمد بن اسحاق مدلس، اور روایت ’’عنعنہ‘‘ سے ہے، لیکن متابعت جو حدیث: 60 پر آ رہی ہے کی وجہ سے اصل حدیث صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 58 سے ماخوذ ہے۔