حدیث نمبر: 13
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَأْخُذْ شَارِبَهُ فَلَيْسَ مِنَّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اپنی مونچھ کے بال نہ لے وہ ہم میں سے نہیں “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی ہماری روش پر چلنے والوں میں سے نہیں، یہ تعبیر تغلیظ و تشدید کے لیے ہے، اسلام سے خروج مراد نہیں اس لیے اس میں غفلت و سستی نہ کریں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / ذكر الفطرة / حدیث: 13
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن الترمذی/ الأدب 16 (2761)، (تحفة الأشراف: 3660)، (مسند احمد 4/366، 368) یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے (5050) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2761 | معجم صغير للطبراني: 607 | سنن نسائي: 5050

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´مونچھ کترنا۔`
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی مونچھ کے بال نہ لے وہ ہم میں سے نہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 13]
13۔ اردو حاشیہ: ➊ مونچھیں، بلوغت کا نشان ہیں، اس سے بچے اور بڑے میں تمیز ہوتی ہے، مگر یہ منہ کے اوپر ہوتی ہیں، زیادہ بڑی ہو جائیں تو کھانے پینے کی چیزوں کو لگیں گی۔ خود بھی آلودہ ہوں گی اور کھانے پینے کی چیزیں بھی گرد وغبار وغیرہ سمیت پیٹ میں جائیں گی، لہٰذا بالائی ہونٹ سے نیچے مونچھوں کو کاٹنا عقلی تقاضا ہے۔ شریعت اسلامیہ کا حکم بھی یہی، البتہ مونچھوں کے کنارے جو ڈاڑھی سے مل جائیں، بغیر کاٹے رکھے جا سکتے ہیں۔
➋ مذکورہ احادیث (نمبر 9 سے 11) امیں پانچ فطری امور ذکر کیے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف یہ پانچ چیزیں ہی فطرت میں داخل ہیں بلکہ دوسری احادیث میں ان کے علاوہ کچھ اور چیزوں کا بھی ذکر ہے، مثلاً: ایک روایت میں ہے: «عشر من الفطرہ» ’’دس چیزیں فطرت سے ہیں۔ (صحيح مسلم، الطهارة، حديث: 261) ان کا ذکر ان شاء اللہ اپنے مقام پر آئے گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 13 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2761 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مونچھیں کترنے کا بیان۔`
زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی مونچھوں کے بال نہ لیے (یعنی انہیں نہیں کاٹا) تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2761]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی وہ ہماری سنت اور ہمارے طریقے کا مخالف ہے، کیونکہ مونچھیں بڑھانا کفارومشرکین کا شعار ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2761 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5050 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مونچھیں کٹانے کا بیان۔`
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے مونچھیں نہیں کاٹیں وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5050]
اردو حاشہ: (1) مونچھیں نہ کاٹے یعنی کاٹنے کی ضرورت ہو، مثلاً: وہ منہ میں پڑنے لگیں۔ مشروب سے آلودہ ہوں وغیرہ: ورنہ ہر روز کاٹنا ضروری نہیں اور نہ ساری زندگی میں ایک آدھ دفعہ کاٹ لینا ہی کافی ہے۔
(2) ہم میں سے نہیں۔ یعنی ہمارے طریقۂ کار پر عمل پیرا نہیں، یا دیکھنےمیں مسلمان نہیں لگتا، یا تشبیہ مراد ہے کہ وہ غیر مسلموں جیسا ہے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5050 سے ماخوذ ہے۔