حدیث نمبر: 1296
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالْبِشْرُ يُرَى فِي وَجْهِهِ فَقَالَ : " إِنَّهُ جَاءَنِي جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : أَمَا يُرْضِيكَ يَا مُحَمَّدُ أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا , وَلَا يُسَلِّمَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، اور آپ کے چہرے پر خوشی و مسرت جھلک رہی تھی ، آپ نے فرمایا : ” یہ ( خوشی اس لیے ہے کہ ) میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے ، اور کہنے لگے : اے محمد ! کیا آپ کے لیے یہ خوشی کا باعث نہیں کہ آپ کی امت میں سے جو کوئی بھی آپ پر صلاۃ ( درود و رحمت ) بھیجے گا تو میں اس پر دس بار درود بھیجوں گا ، اور جو کوئی آپ کے امتیوں میں سے آپ پر سلام بھیجے گا میں تو اس پر دس بار سلام بھیجوں گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب السهو / حدیث: 1296
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 1284 (حسن) (شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت حسن ہے، ورنہ اس کے راوی ’’سلیمان‘‘ مجہول ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود و رحمت) بھیجنے کی فضیلت کا بیان۔`
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور آپ کے چہرے پر خوشی و مسرت جھلک رہی تھی، آپ نے فرمایا: " یہ (خوشی اس لیے ہے کہ) میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے، اور کہنے لگے: اے محمد! کیا آپ کے لیے یہ خوشی کا باعث نہیں کہ آپ کی امت میں سے جو کوئی بھی آپ پر صلاۃ (درود و رحمت) بھیجے گا تو میں اس پر دس بار درود بھیجوں گا، اور جو کوئی آپ کے امتیوں میں سے آپ پر سلام بھیجے گا میں تو اس پر دس بار سلام بھیجوں گا۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1296]
1296۔ اردو حاشیہ: دیکھیے، حدیث: 1284۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1296 سے ماخوذ ہے۔