سنن نسائي
كتاب السهو— کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
بَابُ : التَّمْجِيدِ وَالصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّلاَةِ باب: نماز میں اللہ کی بزرگی بیان کرنے اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ , يَقُولُ : سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ لَمْ يُمَجِّدِ اللَّهَ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَجِلْتَ أَيُّهَا الْمُصَلِّي " ثُمَّ عَلَّمَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي فَمَجَّدَ اللَّهَ وَحَمِدَهُ وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْعُ تُجَبْ وَسَلْ تُعْطَ " .
´فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز میں دعا کرتے ہوئے سنا ، اس نے نہ تو اللہ کی بزرگی بیان کی ، اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام ( درود ) بھیجا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے نمازی ! تم نے جلد بازی کر دی “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سکھایا ( کہ کس طرح دعا کی جائے ) اور اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز کی حالت میں اللہ کی بزرگی اور حمد بیان کرتے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام ( درود ) بھیجتے سنا تو فرمایا : ” آپ دعا کریں آپ کی دعا قبول کی جائے گی ، اور مانگو آپ کو دیا جائے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز میں دعا کرتے ہوئے سنا، اس نے نہ تو اللہ کی بزرگی بیان کی، اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام (درود) بھیجا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اے نمازی! تم نے جلد بازی کر دی "، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سکھایا (کہ کس طرح دعا کی جائے) اور اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز کی حالت میں اللہ کی بزرگی اور حمد بیان کرتے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام (درود) بھیجتے سنا تو فرمایا: " آپ دعا کریں آپ کی دعا قبول کی جائے گی، اور مانگو آپ کو دیا جائے گا۔" [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1285]
➋ نماز کے علاوہ عام دعا میں بھی پہلے حمد و ثنا کی جائے پھر درود پڑھا جائے اور پھر دعا کی جائے۔
➌ مذکورہ آیت قرآنی «صَلُّوا عَلَيْهِ………» کے عموم سے علماء کے ایک گروہ نے یہ بھی استدلال کیا ہے کہ تشہد اول میں بھی درود شریف پڑھا جائے اور سنن نسائی کی ایک روایت میں بھی نفلی نماز کے تشہد اول میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درود پڑھنے کا ثبوت موجود ہے۔ [سنن النسائي مع التعلیقات السلفیۃ، قیام اللیل، کیف الوتر بتسح، حدیث: 11721/202۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: "احسن البیان" مطبوعہ الریاض، سعودی عرب، سورۃ الاحزاب 56: 33 کے ذیل میں]
➍ نماز میں دعا کرنا مشروع ہے۔
➎ دعا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنا اور نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا قبولیت دعا کے اسباب میں سے ہے، لہٰذا دعا کرنے والے کو چاہیے کہ اپنی حاجت برآری کے لیے پہلے اللہ کی حمد بیان کرے، پھر نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے، پھر جو چاہے مانگے، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرے گا۔ إن شاء اللہ تعالیٰ
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز کے اندر ۱؎ دعا کرتے ہوئے سنا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) نہ بھیجا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اس نے جلدی کی "، پھر آپ نے اسے بلایا، اور اس سے اور اس کے علاوہ دوسروں کو خطاب کر کے فرمایا، " جب تم میں سے کوئی بھی نماز پڑھ چکے ۲؎ تو اسے چاہیئے کہ وہ پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجے، پھر اس کے بعد وہ جو چاہے دعا مانگے۔" [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3477]
وضاحت:
1؎:
نماز کے اندر سے مراد ہے کہ آخری رکعت میں درود کے بعد اور سلام سے پہلے نماز میں دعاء کا یہی محل ہے جس کے بارے میں اللہ کے رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ دعاء میں کوشش کرو۔
2؎:
یعنی: پوری نماز سے فارغ ہو کر صرف سلام کرنا باقی رہ جائے، یہ معنی اس لیے لینا ہو گا کہ اسی حدیث میں آ چکا ہے کہ پہلے شخص نے نماز کے اندر دعاء کی تھی اس پر آپﷺ نے فرما یا تھا کہ اس نے صلاۃ (درود) نہ بھیج کر جلدی کی، نیز دعا اللہ سے قرب کے وقت زیادہ قبول ہوتی ہے اور بندہ سلام سے پہلے اللہ سے بنسبت سلام کے بعد زیادہ قریب ہوتا ہے، ویسے سلام کے بعد بھی دعا کی جا سکتی ہے، مگر شرط وہی ہے کہ پہلے حمدوثنا اور درود و سلام کا نذرانہ پیش کر لے۔
صحابی رسول فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز میں دعا کرتے سنا، اس نے نہ تو اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کی اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) بھیجا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اس شخص نے جلد بازی سے کام لیا "، پھر اسے بلایا اور اس سے یا کسی اور سے فرمایا: " جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو پہلے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) بھیجے، اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔" [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1481]
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنی نماز میں دعا کرتے سنا۔ نہ تو اس نے اللہ کی حمد کی اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اس نے جلدی کی " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلایا اور سمجھایا کہ ’’ تم میں سے کوئی جب دعا مانگنے لگے تو پہلے اسے اپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا چاہیئے پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔ "
اسے احمد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ ترمذی، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 248»
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب الدعاء، حديث:1481، والترمذي، الدعوات، حديث:3476-3477، والنسائي، السهو حديث:1285، وأحمد:6 /18، وابن حبان (الإحسان):3 /208، حديث:1957، والحاكم:1 /230.»
تشریح: 1.اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دعا جلدی جلدی نہیں کرنی چاہیے۔
دعا تو نام ہی عجز و انکسار اور اظہار تذلل کا ہے‘ اس لیے جب دعا کی جائے تو پورے اہتمام و اطمینان سے کی جائے۔
پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی جائے‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھا جائے‘ پھر دعا کی جائے۔
2.یہ حدیث حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث تشہد کے عین مطابق ہے کہ تشہد میں بھی پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف و ثنا ہے۔
3. حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے یہ حدیث تشہد کے بعد لا کر اشارہ کیا ہے کہ اس کا محل تشہد ہے۔
4 تشہد میں پہلے اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِيُّ اور پھر اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَ عَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِینَکی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ ہی کی بدولت ہمیں نماز کا طریقہ و سلیقہ حاصل ہوا۔
اس میں خطاب کا لفظ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ حکائی ہے جیسا کہ علامہ ملا علی قاری نے شرح مشکاۃ میں کہا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی یہ کلمات یوں ہی پڑھتے تھے‘ نیز آپ کے انتقال کے بعد بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اَلسَّلاَمُ عَلَی النَّبِيِّ کے الفاظ پڑھنے لگے تھے۔
(صحیح البخاري‘ الاستئذان‘ باب الأخذ بالیدین‘ حدیث:۶۲۶۵) خطاب کبھی حاضر فی الذہن کے لیے بھی ہوتا ہے۔
بہر نوع تشہد میں اس خطاب سے اہل خرافات کا وجودی و حسی حاضر و ناظر مراد لینا غلط اور بے بنیاد ہے۔
راویٔ حدیث:
«حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ» ’’فا‘‘ پر فتحہ اور ’’ض‘‘ مخفف ہے۔
اور عبید‘ عبد سے تصغیر ہے۔
سلسلۂ نسب یوں ہے: فضالہ بن عبید بن نافذ بن قیس۔
ان کی کنیت ابومحمد تھی۔
انصار کے قبیلہ اوس کے فرد تھے۔
پہلا معرکہ جس میں یہ شریک ہوئے معرکہ ٔاُحد تھا۔
اس کے بعد سب غزوات میں شریک رہے۔
بیعت رضوان میں شامل تھے۔
شام کی طرف نقل مکانی کر گئے تھے اور دمشق میں سکونت پذیر ہوئے۔
جس زمانے میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صفین کی جنگ کے لیے نکلے اس وقت یہ وہاں کے قاضی (جج) تھے۔
۵۶ ہجری میں انھوں نے وفات پائی۔